Advertisement

Responsive Advertisement

خاک سے خواب تک قسط 1 | اردو سسپنس ناول | SanaStoryWorld

 

خاک سے خواب تک — قسط نمبر 1

خاک سے خواب تک قسط 1 مکمل اردو ناول کی خوبصورت کور تصویر


کچھ خواب آنکھوں میں نہیں، انسان کے دل میں پلتے ہیں۔ وہ خواب جنہیں حالات بار بار توڑنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر انسان پھر بھی انہیں سینے سے لگائے رکھتا ہے۔ مریم بھی ایک ایسی ہی لڑکی تھی، جس کی آنکھوں میں خواب بہت تھے، لیکن زندگی کے دامن میں خوشیاں کم اور آزمائشیں زیادہ تھیں۔

صبح کے چھ بج رہے تھے۔ گلی میں دودھ والے کی آواز گونج رہی تھی اور پڑوس کی خالہ زبیدہ حسبِ معمول اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی سب کے گھروں کی خبریں جمع کر رہی تھیں۔ مریم کے چھوٹے سے گھر میں، البتہ، ایک الگ ہی ہنگامہ برپا تھا۔

”مریم! بیٹی، تمہارا ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے!“ امی نے باورچی خانے سے آواز دی۔

”امی، بس دو منٹ! میں اپنی فائل ڈھونڈ رہی ہوں۔“

”تمہاری فائل بھی تمہاری طرح لاپتا رہتی ہے۔ کل جوتے نہیں مل رہے تھے، آج فائل نہیں مل رہی۔ کل کو کہیں تم خود ہی گم نہ ہو جانا!“

مریم نے الماری کے نیچے سے سر نکالا اور ہنس کر بولی، ”امی، اگر میں گم ہو گئی تو آپ کو سکون مل جائے گا۔ کم از کم صبح صبح مجھے آوازیں تو نہیں دینی پڑیں گی۔“

”ہاں ہاں، تم گم ہو کر دکھاؤ، پھر میں تمہارے ابو سے کہوں گی کہ دوسری بیٹی لے آئیں!“

مریم کی ہنسی بے اختیار نکل گئی۔ گھر کے حالات چاہے جیسے بھی تھے، اس کی ماں کی محبت اور ان دونوں کی نوک جھونک گھر میں زندگی کی تھوڑی سی روشنی ضرور رکھتی تھی۔

مریم کے والد، سلیم صاحب، ایک معمولی ملازمت کرتے تھے۔ چند ماہ سے ان کی طبیعت اکثر خراب رہنے لگی تھی، جس کی وجہ سے گھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ مریم نے گریجویشن کے بعد اپنی پڑھائی جاری رکھنے کا خواب دیکھا تھا، مگر حالات نے اسے نوکری تلاش کرنے پر مجبور کر دیا۔ اب اسے ایک نجی دفتر میں ملازمت ملنے کی امید تھی۔ آج اس کا پہلا دن تھا۔

ناشتہ جلدی جلدی ختم کر کے اس نے اپنا دوپٹہ درست کیا، فائل اٹھائی اور دروازے کی طرف بڑھی۔ اسی وقت اس کا چھوٹا بھائی حمزہ سامنے آ گیا۔

”آپی، اگر آج آپ کو نوکری مل گئی تو میرے لیے نیا موبائل لے دیں گی؟“

مریم نے اسے گھورا۔ ”پہلے اپنی جماعت میں پاس تو ہو جاؤ، پھر موبائل بھی ملے گا اور ساتھ میں موٹر سائیکل بھی!“

حمزہ نے خوش ہو کر پوچھا، ”سچ؟“

”بالکل سچ! بس یہ یاد رکھنا کہ موٹر سائیکل چلانے کے لیے پہلے تمہیں سائیکل چلانا سیکھنی پڑے گی۔“

حمزہ کا منہ بن گیا اور مریم ہنستی ہوئی گھر سے نکل گئی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ آج کا دن اس کی زندگی میں ایک ایسی کہانی کا آغاز کرنے والا ہے جس کا اختتام ابھی قسمت نے بھی نہیں لکھا تھا۔

ایک نیا راستہ

دفتر شہر کی ایک مصروف سڑک پر واقع تھا۔ عمارت زیادہ بڑی نہیں تھی، لیکن اس کے شیشے کے دروازے اور صاف ستھرا استقبالیہ دیکھ کر مریم کو کچھ حوصلہ ملا۔ اس نے گہری سانس لی اور اندر داخل ہو گئی۔

استقبالیہ پر بیٹھے نوجوان نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ ”جی، کس سے ملنا ہے؟“

”مجھے ملازمت کے سلسلے میں بلایا گیا تھا۔ میرا نام مریم سلیم ہے۔“

نوجوان نے رجسٹر کھولا، پھر سنجیدگی سے بولا، ”اچھا، آپ ہی ہیں وہ امیدوار؟“

مریم نے اثبات میں سر ہلایا۔

وہ نوجوان کرسی سے اٹھا اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی فائل گراتے گراتے بچا سکا۔ پھر بولا، ”میں اسحاق ہوں۔ یہاں دفتر کے آدھے کام کرتا ہوں اور باقی آدھے کام کرنے کا دعویٰ کرتا ہوں۔“

مریم اپنی ہنسی نہ روک سکی۔ ”اور تنخواہ پوری لیتے ہیں؟“

اسحاق نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا، ”محترمہ! یہ سوال آپ نے پہلے ہی دن کر کے میرے دل پر وار کیا ہے۔ یہاں تنخواہ پوری ملتی ہے یا نہیں، یہ اکاؤنٹنٹ جانتا ہے۔ میں تو بس مہینے کے آخر میں دعا کرتا ہوں کہ تنخواہ آ جائے!“

مریم کے چہرے پر کئی دن بعد بے ساختہ مسکراہٹ آئی تھی۔ اسحاق اسے دفتر کے اندر لے گیا اور ایک کمرے کے باہر رک کر بولا، ”آپ یہاں انتظار کریں۔ حارث صاحب ابھی آتے ہوں گے۔ وہ ہمارے دفتر کے سب سے خاموش انسان ہیں۔ اگر آپ انہیں مسکراتے دیکھ لیں تو سمجھ لیجیے گا کہ آج سورج مغرب سے نکلا ہے۔“

”تم میرے بارے میں کیا کہہ رہے ہو، اسحاق؟“ پیچھے سے ایک سنجیدہ آواز آئی۔

اسحاق فوراً سیدھا ہو گیا۔ ”سر! میں تو آپ کی تعریف کر رہا تھا۔ میں کہہ رہا تھا کہ آپ کی خاموشی سے پورے دفتر میں سکون رہتا ہے۔“

حارث نے اسے ایک نظر دیکھا۔ ”اچھا؟ تو پھر آج کے تمام کاغذات بھی تم ہی خاموشی سے مکمل کر دینا۔“

”سر، میری خاموشی تو حاضر ہے، بس ہاتھوں کو تھوڑا آرام چاہیے!“

حارث کے چہرے پر بہت ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور وہ مریم کی طرف متوجہ ہوا۔ ”آپ مریم ہیں؟ آئیے، اندر تشریف لائیے۔“

مریم اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہو گئی۔ حارث نے اس کی تعلیمی اسناد دیکھیں، چند سوالات کیے اور پھر دفتر کے کام کی تفصیل سمجھائی۔ اس کا انداز سنجیدہ تھا، مگر بات کرتے ہوئے وہ پوری توجہ سے سامنے والے کی بات سنتا تھا۔ مریم کو یہ بات اچھی لگی۔

”آپ کو یہ ملازمت کیوں چاہیے؟“ حارث نے پوچھا۔

مریم چند لمحے خاموش رہی۔ وہ چاہتی تو کہہ سکتی تھی کہ اسے اپنے خواب پورے کرنے ہیں، لیکن اس وقت اس کے ذہن میں اپنے والد کی دوائیں اور گھر کے اخراجات گھوم رہے تھے۔

”کیونکہ مجھے اپنے گھر کی ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹانا ہے، سر۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے والد کو ہر چھوٹی ضرورت کے لیے پریشان نہ ہونا پڑے۔ اور میں اپنی تعلیم بھی جاری رکھنا چاہتی ہوں۔“

حارث نے اس کی طرف دیکھا۔ اس جواب میں بناوٹ نہیں تھی۔ چند لمحوں بعد اس نے فائل بند کی اور کہا، ”آپ کل سے کام شروع کر سکتی ہیں۔ ابتدائی طور پر آپ کو تین ماہ کی آزمائشی مدت پر رکھا جائے گا۔ اگر آپ نے محنت اور ذمہ داری سے کام کیا تو آپ کی ملازمت مستقل ہو سکتی ہے۔“

مریم کو پہلے یقین ہی نہیں آیا۔ ”کیا واقعی، سر؟“

”جی ہاں۔ لیکن دفتر میں وقت کی پابندی ضروری ہے۔“

”میں پوری کوشش کروں گی کہ کبھی دیر نہ ہو۔“

اسی وقت دروازہ کھلا اور اسحاق اندر جھانکنے لگا۔ ”سر، کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“

حارث نے کہا، ”تم پہلے ہی اندر ہو۔“

اسحاق نے اردگرد دیکھا۔ ”اچھا! پھر اجازت لینے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ میری زندگی میں پہلی بار کسی کام میں اتنا وقت بچا ہے!“

مریم اپنی ہنسی نہ روک سکی۔ حارث نے سر جھکا کر فائل اٹھائی، مگر اس کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آ گئی تھی۔

خوشی کے پیچھے چھپا خوف

گھر واپس پہنچتے ہوئے مریم کے قدم ہلکے تھے۔ اسے لگ رہا تھا جیسے اس کے کندھوں سے کوئی بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے آواز لگائی، ”امی! میری نوکری لگ گئی!“

اس کی ماں باورچی خانے سے باہر آئیں اور بیٹی کو گلے لگا لیا۔ ”اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے، بیٹی۔ تمہاری محنت کا پھل تمہیں ضرور ملے۔“

سلیم صاحب چارپائی پر بیٹھے اخبار دیکھ رہے تھے۔ خبر سن کر ان کے چہرے پر خوشی پھیل گئی، لیکن اس کے ساتھ ہی آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی بھی ابھر آئی۔

”ابو، آپ خوش نہیں ہوئے؟“ مریم نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔

”بہت خوش ہوا ہوں، بیٹی۔ بس دل میں یہ خیال آتا ہے کہ تمہیں اتنی چھوٹی عمر میں اتنی ذمہ داریاں اٹھانی پڑ رہی ہیں۔“

مریم نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔ ”ابو، آپ نے ساری زندگی ہمارے لیے محنت کی ہے۔ اب میری باری ہے۔ آپ بس اپنی صحت کا خیال رکھیں۔“

سلیم صاحب نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، مگر ان کی نظریں کچھ دیر کے لیے دیوار کے ساتھ رکھی ایک پرانی لکڑی کی الماری پر ٹھہر گئیں۔ اس الماری میں چند پرانی فائلیں اور کاغذات رکھے تھے، جنہیں وہ ہمیشہ بند رکھتے تھے۔

مریم نے ان کی نظریں دیکھیں، لیکن کچھ پوچھا نہیں۔ اسے کیا معلوم تھا کہ ان کاغذات میں اس کے خاندان کے ماضی کا ایک ایسا راز چھپا ہے جو ایک دن اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔

رات کو جب سب سو گئے تو سلیم صاحب آہستہ سے اٹھے۔ انہوں نے الماری کھولی، ایک پرانی فائل نکالی اور اس میں سے ایک کاغذ باہر نکالا۔ کاغذ کے کنارے زرد پڑ چکے تھے اور اس پر ایک نام واضح لکھا تھا۔

”یہ معاملہ دوبارہ ہمارے دروازے تک نہیں آنا چاہیے،“ انہوں نے دھیمی آواز میں خود سے کہا۔

اسی لمحے باہر گلی میں ایک گاڑی آ کر رکی۔ اس کے اندر بیٹھے شخص نے گھر کی طرف دیکھا، پھر اپنے موبائل پر کسی کو فون کیا۔

”میں پہنچ گیا ہوں۔ ہاں، یہی گھر ہے۔ اتنے سال گزر گئے، لیکن اب وہ کاغذات ڈھونڈنے ہی پڑیں گے۔“

فون بند ہوا تو گاڑی کی کھڑکی سے اس شخص کا چہرہ چند لمحوں کے لیے روشنی میں آیا۔ اس کی آنکھوں میں کسی پرانی دشمنی کی آگ جل رہی تھی۔

اگلی صبح مریم اپنی نئی ملازمت کے لیے تیار ہو رہی تھی۔ اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ دفتر میں اس کا پہلا دن صرف ایک نئی نوکری کا آغاز نہیں ہوگا، بلکہ ایک ایسی آزمائش کا پہلا قدم بھی ہوگا جس میں اس کے خواب، اس کے رشتے اور اس کے خاندان کا ماضی سب ایک دوسرے سے ٹکرانے والے تھے۔

کیا مریم اپنے نئے سفر میں کامیاب ہو سکے گی؟ اور سلیم صاحب کے ماضی میں ایسا کون سا راز چھپا ہے جس کی تلاش میں کوئی شخص برسوں بعد واپس آیا ہے؟

جاری ہے۔۔۔ قسط نمبر 2 میں

Part 2 parhny ky liye yahan 

 click karin 


LIVE NOW
📚 Sana Story World - VIP Novels
Dil ko choo lene wali behtreen Urdu novels, romantic & suspense stories sirf ek click par. Daily new episodes!
Visit For More Novels →
✦ TRUSTED BY 10K+ READERS ✦

Post a Comment

0 Comments