خاک سے خواب تک — قسط نمبر 2
تحریر: SanaStoryWorld
کچھ راز وقت کے ساتھ دفن نہیں ہوتے، بلکہ خاموشی سے انسان کے تعاقب میں رہتے ہیں۔ جب بھی کوئی انہیں بھولنے کی کوشش کرتا ہے، ماضی کسی نہ کسی دروازے سے دستک دینے لگتا ہے۔ سلیم صاحب کے گھر کے باہر کھڑی گاڑی بھی شاید ایسے ہی کسی راز کی تلاش میں آئی تھی۔ لیکن اس وقت مریم ان سب باتوں سے بے خبر اپنی زندگی کے نئے دن کا آغاز کرنے والی تھی۔
صبح کی روشنی کھڑکی سے اندر آ رہی تھی۔ مریم جلدی جلدی تیار ہو رہی تھی اور اس کی امی باورچی خانے میں پراٹھے بنا رہی تھیں۔
”مریم! ناشتہ کر کے جانا۔ کل بھی تم نے جلدی میں آدھا ناشتہ چھوڑ دیا تھا۔“
”امی، آج دیر نہیں ہو گی۔ میں وقت سے پہلے دفتر پہنچ جاؤں گی۔“
حمزہ نے بستر سے آواز لگائی، ”آپی، اگر آپ آج جلدی پہنچ گئیں تو کیا دفتر والے آپ کو دو تنخواہیں دیں گے؟“
مریم نے کمرے میں جھانک کر کہا، ”نہیں، لیکن اگر تم ابھی اٹھ کر اسکول چلے گئے تو شاید تمہیں ایک اضافی چھٹی مل جائے!“
حمزہ فوراً اٹھ بیٹھا۔ ”امی! آپی مجھے دھمکیاں دے رہی ہیں!“
امی نے ہنستے ہوئے جواب دیا، ”دھمکی نہیں، حقیقت بتا رہی ہے۔ اب اٹھ جاؤ، ورنہ آج تمہاری چھٹی واقعی پکی ہے!“
مریم مسکراتی ہوئی باہر نکلی، مگر دروازے کے قریب اس کی نظر اپنے والد پر پڑی۔ سلیم صاحب خاموش بیٹھے تھے۔ ان کے چہرے پر رات کی تھکن اور پریشانی کے آثار اب بھی موجود تھے۔
”ابو، طبیعت ٹھیک ہے؟“ مریم نے ان کے قریب بیٹھ کر پوچھا۔
”ہاں بیٹی، بس ذرا نیند پوری نہیں ہوئی۔ تم اپنی فکر کرو اور دل لگا کر کام کرنا۔“
مریم نے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ ”آپ پریشان نہ ہوں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔“
سلیم صاحب نے اس کی طرف دیکھا، جیسے کچھ کہنا چاہتے ہوں، مگر پھر خاموش ہو گئے۔ مریم نے وجہ نہیں پوچھی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ اس کے والد کے دل میں ایک ایسا خوف بیٹھا ہوا ہے جو برسوں پرانا تھا۔
Read also are fast food kid's meals healthy?A paren guide
دفتر کا پہلا امتحان
مریم وقت سے پہلے دفتر پہنچ گئی۔ استقبالیے پر اسحاق بیٹھا ایک کاغذ پر کچھ لکھ رہا تھا۔ اس کے سامنے چائے کا کپ، دو بسکٹ اور ایک موٹی سی فائل رکھی تھی۔
مریم نے سلام کیا تو اسحاق نے سر اٹھایا۔ ”وعلیکم السلام! واہ، آج تو سورج بھی حیران ہو گا کہ مریم صاحبہ دفتر اتنی جلدی کیسے پہنچ گئیں۔“
”کل آپ نے ہی تو کہا تھا کہ وقت کی پابندی ضروری ہے۔“
اسحاق نے فوراً اپنی ٹائی سیدھی کی۔ ”میں نے کہا تھا؟ اچھا، پھر تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ کبھی کبھی میرے منہ سے بھی عقل کی بات نکل جاتی ہے۔“
مریم ہنس دی۔ ”آپ ہر وقت مذاق کرتے رہتے ہیں؟“
”نہیں، جب بجلی کا بل آتا ہے تو میں سنجیدہ ہو جاتا ہوں۔ اور جب تنخواہ آتی ہے تو اتنا خوش ہوتا ہوں کہ بل دیکھ کر دوبارہ سنجیدہ ہو جاتا ہوں!“
مریم کی ہنسی سن کر دفتر کے چند ملازمین نے بھی مسکرا کر ان کی طرف دیکھا۔ اسی دوران حارث اپنے کمرے سے باہر آیا۔ اس نے مریم کو دیکھا اور مختصر سا سلام کیا۔
”مریم، آج آپ کو پرانے ریکارڈ کی فائلیں ترتیب دینی ہیں۔ کچھ اہم دستاویزات ہیں جنہیں الگ رکھنا ضروری ہے۔ اسحاق آپ کو کام سمجھا دے گا۔“
اسحاق نے فوراً اعتراض کیا، ”سر، میں خود ابھی اہم دستاویزات ترتیب دے رہا ہوں۔“
حارث نے اس کی میز پر پڑی فائلوں کو دیکھا۔ ”یہ اہم دستاویزات ہیں؟“
”جی سر، بہت اہم! ان میں میری چھٹی کی درخواست بھی ہے۔“
حارث نے بے تاثر چہرے کے ساتھ کہا، ”وہ درخواست پچھلے مہینے بھی مسترد ہوئی تھی۔“
”سر، اسی لیے تو دوبارہ دے رہا ہوں۔ شاید آپ کو میری محنت پر رحم آ جائے!“
حارث نے سر ہلایا اور اپنے کمرے میں واپس چلا گیا۔ اسحاق نے مریم کی طرف دیکھا۔ ”دیکھا؟ انسان کو امید نہیں چھوڑنی چاہیے۔ میں پچھلے چھ ماہ سے چھٹی مانگ رہا ہوں۔ ایک دن ضرور کامیاب ہوں گا۔“
مریم نے مسکراتے ہوئے کہا، ”یا پھر آپ کی نوکری ختم ہو جائے گی۔“
اسحاق نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، پھر دل پر ہاتھ رکھ کر بولا، ”آپ نئی ملازمہ ہیں، اس لیے معاف کر رہا ہوں۔ ورنہ ایسی بات پر میں پورے دفتر کو چائے پلانے کی سزا دیتا ہوں!“
”چائے تو آپ خود بھی نہیں پلاتے۔“
”اب یہ تو آپ نے میری عزت کا مسئلہ بنا دیا!“
دونوں ہنستے ہوئے ریکارڈ روم کی طرف چلے گئے۔
وہ پراسرار فائل
ریکارڈ روم دفتر کے پچھلے حصے میں تھا۔ وہاں بڑی بڑی الماریاں تھیں جن میں پرانے کاغذات، معاہدے اور مختلف کمپنیوں کی فائلیں رکھی تھیں۔ کمرے میں گرد جمی ہوئی تھی اور کھڑکی کئی دنوں سے نہیں کھولی گئی تھی۔
اسحاق نے کھانستے ہوئے کہا، ”یہ ہے ہمارا تاریخی کمرہ۔ یہاں اتنی پرانی فائلیں ہیں کہ کچھ کو شاید خود بھی یاد نہیں کہ ان میں لکھا کیا ہے۔“
مریم نے دوپٹہ ناک کے قریب کیا۔ ”یہاں صفائی نہیں ہوتی؟“
”ہوتی ہے، مگر صرف اس دن جب کوئی بڑا افسر آنے والا ہو۔ باقی دن ہم فائلوں اور گرد کے درمیان بھائی چارہ قائم رکھتے ہیں۔“
مریم نے ایک میز صاف کی اور فائلیں ترتیب دینے لگی۔ اسحاق کو فون آ گیا تو وہ چند منٹ کے لیے باہر چلا گیا۔ مریم اکیلی کام کرتی رہی۔ کچھ دیر بعد اسے الماری کے نچلے خانے میں ایک پرانی بھوری فائل نظر آئی۔ اس پر گرد کی موٹی تہہ جمی ہوئی تھی اور باقی فائلوں کے مقابلے میں وہ الگ رکھی ہوئی تھی۔
مریم نے فائل باہر نکالی۔ اس کے اوپر صرف ایک لفظ لکھا تھا: ”سلیم“۔
اس کے ہاتھ اچانک رک گئے۔ سلیم اس کے والد کا نام تھا۔ اس نے سوچا شاید یہ کسی اور سلیم کی فائل ہو، مگر جیسے ہی اس نے اسے کھولا، اندر موجود ایک کاغذ پر اس کی نظر جم گئی۔
کاغذ پر ایک پرانا پتہ درج تھا، ساتھ ہی ایک معاہدے کی نقل اور دو افراد کے دستخط تھے۔ ایک نام کے نیچے لکھا تھا: سلیم احمد۔ دوسرے نام پر سیاہی پھیل چکی تھی، لیکن آخری لفظ واضح تھا: ”شاہ“۔
مریم کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس کے والد کا نام سلیم احمد تھا۔ کیا یہ محض اتفاق تھا؟ اس نے کاغذ کو دوبارہ دیکھا۔ معاہدے کی تاریخ تقریباً بیس سال پرانی تھی۔ اس کے مطابق ایک جائیداد کی ملکیت اور اس سے متعلق کچھ حقوق کسی تنازعے کی وجہ سے روک دیے گئے تھے۔
اسی وقت دروازہ کھلا اور اسحاق واپس آ گیا۔ مریم نے جلدی سے کاغذ فائل کے اندر رکھ دیا۔
”ارے! آپ کے چہرے کو کیا ہوا؟ ایسے لگ رہا ہے جیسے فائل کے اندر سے کوئی جن نکل آیا ہو!“ اسحاق نے پوچھا۔
”کچھ نہیں۔ یہ پرانی فائل تھی، بس دیکھ رہی تھی۔“
اسحاق نے فائل کی طرف ہاتھ بڑھایا تو مریم نے اسے روک دیا۔ ”یہ میں بعد میں ترتیب دے دوں گی۔“
اسحاق نے حیرت سے اسے دیکھا۔ ”اچھا جی! ابھی تو آپ کہہ رہی تھیں کہ یہاں اتنی گرد ہے کہ سانس لینا مشکل ہے، اب فائل سے محبت بھی ہو گئی؟“
مریم نے بات بدل دی۔ ”اسحاق صاحب، باقی فائلیں کہاں رکھنی ہیں؟“
”یہ ہوئی نا کام کی بات! ورنہ میں تو سمجھا تھا کہ آپ نے تاریخ میں ماسٹرز کیا ہے اور اب ہمارے دفتر کے تمام راز کھولنے آئی ہیں۔“
اس کی بات سن کر مریم کے دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوا۔ شاید وہ واقعی کسی راز کے بہت قریب آ گئی تھی۔
حارث کی خاموشی
دوپہر کے قریب مریم ضروری کاغذات لے کر حارث کے کمرے میں پہنچی۔ حارث کمپیوٹر پر کام کر رہا تھا۔ اس نے کاغذات میز پر رکھے اور کچھ دیر خاموش کھڑی رہی۔
”کیا کوئی بات ہے؟“ حارث نے اس کی خاموشی محسوس کرتے ہوئے پوچھا۔
مریم نے ہچکچاتے ہوئے کہا، ”سر، ریکارڈ روم میں ایک بہت پرانی فائل ملی ہے۔ اس پر میرے والد کا نام لکھا ہوا ہے۔“
حارث کے ہاتھ رک گئے۔ اس نے پہلی بار مریم کی طرف پوری توجہ سے دیکھا۔ ”آپ کے والد کا نام کیا ہے؟“
”سلیم احمد۔“
چند لمحوں کے لیے کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ حارث نے اپنی کرسی سے پیچھے ٹیک لگائی، جیسے کوئی پرانی بات یاد آ گئی ہو۔
”وہ فائل آپ کے پاس ہے؟“
”جی سر۔ میں نے ابھی تک اسے واپس نہیں رکھا۔ اس میں ایک جائیداد کے معاہدے کی نقل تھی اور ایک نام شاہ بھی لکھا ہوا تھا۔“
حارث نے میز پر پڑا قلم اٹھایا اور پھر واپس رکھ دیا۔ ”مریم، دفتر میں بہت پرانا ریکارڈ موجود ہے۔ بعض فائلیں قانونی معاملات سے متعلق ہوتی ہیں۔ آپ کو کوئی بھی کاغذ کسی کی اجازت کے بغیر باہر نہیں لے جانا چاہیے۔“
”میں نے کچھ باہر نہیں نکالا، سر۔ میں صرف یہ جاننا چاہتی تھی کہ میرے والد کا نام وہاں کیوں ہے۔“
حارث کے چہرے پر سنجیدگی گہری ہو گئی۔ ”میں آپ کی بات سمجھ رہا ہوں۔ آپ وہ فائل مجھے دے دیں۔ میں ریکارڈ چیک کروا دوں گا۔“
مریم نے اس کی طرف دیکھا۔ ”کیا آپ اس معاملے کے بارے میں پہلے سے کچھ جانتے ہیں؟“
حارث چند لمحے خاموش رہا۔ پھر اس نے نظریں کاغذات پر جھکا دیں۔ ”ابھی میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے۔“
مریم کو محسوس ہوا کہ وہ پوری بات نہیں بتا رہا، لیکن اس کے پاس پوچھنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں تھا۔ اس نے فائل اس کے حوالے کر دی اور کمرے سے باہر آ گئی۔
حارث نے فائل کھولی۔ جیسے ہی اس کی نظر معاہدے پر پڑی، اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اس نے فوراً دروازہ بند کیا اور اپنے موبائل سے ایک نمبر ملایا۔
”وہ فائل مل گئی ہے،“ اس نے دھیمی آواز میں کہا۔ ”ہاں، سلیم احمد کی بیٹی اسی دفتر میں کام کرتی ہے۔ ہمیں اس معاملے کو بہت احتیاط سے دیکھنا ہو گا۔“
دوسری طرف سے کیا جواب آیا، یہ کسی کو معلوم نہ ہو سکا۔ حارث نے کال ختم کی اور دیر تک فائل کو دیکھتا رہا۔ اس کی خاموشی کے پیچھے بھی ایک ایسا ماضی تھا جس کا تعلق مریم کے خاندان سے نکلتا دکھائی دے رہا تھا۔
ایک نام، کئی سوال
شام کو گھر واپس جاتے ہوئے مریم کا ذہن اسی فائل میں الجھا رہا۔ راستے میں وہ بار بار سوچتی کہ اس کے والد نے کبھی کسی جائیداد یا معاہدے کا ذکر کیوں نہیں کیا۔ گھر کے حالات ہمیشہ تنگ رہے تھے۔ اگر کوئی جائیداد تھی تو پھر وہ کہاں گئی؟ اور اس نام کے ساتھ شاہ کیوں لکھا تھا؟
گھر پہنچی تو امی صحن میں کپڑے تہہ کر رہی تھیں۔ مریم نے بیگ رکھا اور ان کے پاس بیٹھ گئی۔
”امی، میں آپ سے ایک بات پوچھوں؟“
”پوچھو، بیٹی۔ کیا ہوا؟“
”کیا ابو کے خاندان میں کبھی کسی جائیداد کا مسئلہ ہوا تھا؟ یا ان کا کسی شاہ خاندان سے کوئی تعلق تھا؟“
مریم کی ماں کے ہاتھ رک گئے۔ انہوں نے آہستہ سے کپڑے ایک طرف رکھے اور بیٹی کو غور سے دیکھا۔
”تم یہ سب کیوں پوچھ رہی ہو؟“
”دفتر میں ایک پرانی فائل ملی تھی۔ اس پر ابو کا نام لکھا تھا اور ایک جائیداد کے معاہدے کا ذکر تھا۔“
ماں کے چہرے پر پریشانی ابھر آئی۔ ”مریم، تم اس معاملے سے دور رہو۔ پرانی باتیں کریدنے سے کبھی کبھی ایسے زخم کھل جاتے ہیں جنہیں بھرنے میں برسوں لگتے ہیں۔“
”لیکن امی، اگر یہ ابو کے ساتھ ہونے والی کسی ناانصافی کا معاملہ ہے تو ہمیں جاننا چاہیے نا؟“
”ہر سچ فوراً جاننا ضروری نہیں ہوتا، بیٹی۔ بعض اوقات سچ انسان کو مضبوط بناتا ہے اور بعض اوقات اسے اندر سے توڑ دیتا ہے۔“
مریم نے اپنی ماں کے ہاتھ تھام لیے۔ ”آپ کو کچھ معلوم ہے، ہے نا؟“
اس کی ماں نے نظریں چرا لیں۔ ”میں تھک گئی ہوں۔ تم جا کر ہاتھ منہ دھو لو، پھر کھانا کھا لینا۔“
مریم سمجھ گئی کہ اس کی ماں بھی کچھ چھپا رہی ہے۔ لیکن وہ مزید سوال کرنے کے بجائے خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
کچھ دیر بعد سلیم صاحب گھر آئے۔ مریم نے ان کے چہرے کو دیکھا تو اسے محسوس ہوا کہ وہ معمول سے زیادہ پریشان ہیں۔
”ابو، آج دفتر میں آپ کے نام کی ایک پرانی فائل ملی ہے۔“
سلیم صاحب کے ہاتھ سے چابی تقریباً گر گئی۔ انہوں نے فوراً دروازہ بند کیا اور مریم کو اپنے کمرے میں آنے کا اشارہ کیا۔
”تم نے وہ فائل کہاں دیکھی؟“ ان کی آواز میں گھبراہٹ صاف محسوس ہو رہی تھی۔
”دفتر کے ریکارڈ روم میں۔ اس میں ایک جائیداد کے معاہدے کا ذکر تھا۔ ابو، آخر وہ کیا معاملہ ہے؟“
سلیم صاحب نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ دیر بعد بولے، ”مریم، میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ تم لوگوں کو ان مسائل سے دور رکھوں۔ میں چاہتا تھا کہ تم اپنی زندگی میں آگے بڑھو، نہ کہ میرے ماضی کا بوجھ اٹھاؤ۔“
”لیکن آپ نے ہمیں کبھی بتایا کیوں نہیں؟“
”کیونکہ اس معاملے میں صرف پیسے یا زمین کا مسئلہ نہیں تھا۔ اس میں اعتماد، رشتے اور کچھ ایسے وعدے شامل تھے جو کبھی پورے نہیں ہوئے۔“
مریم ان کے سامنے بیٹھ گئی۔ ”کیا کسی نے آپ کے ساتھ دھوکا کیا تھا؟“
سلیم صاحب نے فوراً جواب نہیں دیا۔ پھر آہستہ سے کہا، ”کچھ لوگ وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں، اور کچھ لوگوں کا اصل چہرہ بہت دیر بعد سامنے آتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ تم کسی پر جلدی اعتماد کرو۔“
”کیا اس معاملے کا تعلق شاہ خاندان سے ہے؟“
یہ نام سنتے ہی سلیم صاحب کی آنکھوں میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔
”یہ نام تمہیں کس نے بتایا؟“
”فائل میں لکھا تھا۔“
سلیم صاحب نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔ ”یا اللہ! اتنے سال بعد بھی یہ معاملہ ختم نہیں ہوا؟“
مریم نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ”ابو، آپ مجھے سچ بتا دیں۔ میں آپ کی بیٹی ہوں۔ آپ کی پریشانی مجھ سے چھپی نہیں رہ سکتی۔“
سلیم صاحب نے اسے دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں محبت بھی تھی اور بے بسی بھی۔ ”ابھی نہیں، بیٹی۔ مجھے کچھ وقت دے دو۔ جب مناسب وقت آئے گا، میں تمہیں سب کچھ بتا دوں گا۔“
مریم نے مزید اصرار نہیں کیا، لیکن اس کے دل میں سوال پہلے سے زیادہ بڑھ گئے تھے۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کوئی معمولی پرانی فائل نہیں تھی۔
رات کی دستک
رات کے تقریباً گیارہ بج رہے تھے۔ گھر کے سب افراد اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔ مریم اپنی میز پر بیٹھی اگلے دن کے کام کی تیاری کر رہی تھی کہ اچانک دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔
سلیم صاحب اپنے کمرے سے باہر نکلے۔ دوسری دستک پہلے سے زیادہ سخت تھی۔ انہوں نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک درمیانی عمر کا شخص کھڑا تھا۔ اس نے مہنگے کپڑے پہن رکھے تھے اور اس کے چہرے پر خود اعتمادی سے زیادہ غرور دکھائی دیتا تھا۔
”السلام علیکم، سلیم صاحب۔ امید ہے آپ کو میں یاد ہوں گا۔“
سلیم صاحب کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ ”تم؟ تم یہاں کیوں آئے ہو؟“
اس شخص نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، ”میں صرف ایک پرانی بات یاد دلانے آیا ہوں۔ وقت بہت گزر گیا، لیکن کچھ حساب ابھی باقی ہیں۔“
”میں تم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔ واپس چلے جاؤ۔“
”بات تو اب ہو گی، سلیم صاحب۔ خاص طور پر جب آپ کی بیٹی بھی اس معاملے میں شامل ہو چکی ہے۔“
یہ سنتے ہی سلیم صاحب نے دروازے کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ ”میری بیٹی سے دور رہنا!“
اس شخص کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔ ”تو پھر آپ کو وہ کاغذات تلاش کرنے ہوں گے جنہیں آپ نے برسوں سے چھپا رکھا ہے۔ ورنہ اس بار نقصان صرف آپ کا نہیں ہو گا۔“
مریم اندر سے یہ آوازیں سن کر باہر آ گئی۔ ”ابو، کیا ہوا ہے؟ یہ کون ہیں؟“
اجنبی نے مریم کی طرف دیکھا۔ اس کی نگاہ میں ایک عجیب سا تاثر تھا، جیسے وہ اسے پہلے سے جانتا ہو۔
”تو تم مریم ہو؟“ اس نے کہا۔ ”تمہیں اپنے والد سے اپنے خاندان کی پوری کہانی ضرور پوچھنی چاہیے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہارے خوابوں کی بنیاد میں کس کی قربانی اور کس کا حق چھپا ہوا ہے۔“
”آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟“ مریم نے سوال کیا۔
اس شخص نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے سلیم صاحب کو آخری نظر سے دیکھا اور سیڑھیاں اتر گیا۔ باہر کھڑی گاڑی کا دروازہ بند ہوا اور چند لمحوں میں گاڑی گلی سے غائب ہو گئی۔
مریم نے اپنے والد کی طرف دیکھا۔ وہ دروازے کے پاس کھڑے کانپ رہے تھے۔
”ابو، وہ شخص کون تھا؟“
سلیم صاحب نے جواب دینے کے بجائے دروازہ بند کیا اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
”مریم، مجھے ڈر تھا کہ ایک دن یہ سب دوبارہ ہو گا۔ میں نے تمہیں اس دنیا سے بچانے کی پوری کوشش کی، لیکن شاید اب وہ وقت آ گیا ہے جب تمہیں سچ جاننا ہی پڑے گا۔“
مریم کے دل میں خوف کے ساتھ ایک نیا عزم بھی پیدا ہوا۔ اب وہ صرف اپنے والد کے ماضی کو جاننا نہیں چاہتی تھی، بلکہ یہ بھی معلوم کرنا چاہتی تھی کہ آخر اس کے خاندان کے ساتھ کیا ہوا تھا۔
اس رات اسے نیند نہیں آئی۔ ایک طرف دفتر کی پراسرار فائل تھی، دوسری طرف حارث کی خاموشی اور اب یہ اجنبی شخص۔ تینوں باتیں کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں۔
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور ہوا کے ساتھ درختوں کی شاخیں ہل رہی تھیں۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ اس کی زندگی کا راستہ اتنا آسان نہیں ہو گا جتنا اس نے سوچا تھا۔
اگلی صبح دفتر پہنچتے ہی مریم نے حارث سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن جب وہ اس کے کمرے کے قریب پہنچی تو اندر سے ایک آواز سنائی دی۔
”میں نے کہا تھا کہ سلیم احمد کی بیٹی کو اس معاملے سے دور رکھنا ہے۔ اگر اسے حقیقت معلوم ہو گئی تو سب کچھ بدل جائے گا!“
مریم کے قدم وہیں رک گئے۔ یہ حارث کی آواز تھی۔
اس نے دروازے کی طرف دیکھا، پھر آہستہ سے پیچھے ہٹ گئی۔ اس کے دل میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا: کیا حارث اس کی مدد کرنا چاہتا تھا، یا وہ بھی اس راز کا حصہ تھا؟
کیا حارث مریم سے حقیقت چھپا رہا ہے؟ شاہ خاندان اور سلیم صاحب کے درمیان ایسا کون سا معاہدہ ہوا تھا جس نے برسوں بعد ایک نئی جنگ کو جنم دے دیا؟
جاری ہے۔۔۔ قسط نمبر 3 میں
Part 1 parhny ky liye yahan
Part 3 parhny ky liye yahan
اگلی قسط کے لیے SanaStoryWorld وزٹ کریں۔

0 Comments