زندگی اور محبت
کبھی کبھی حقیقت تک پہنچنے کے لیے ماضی کی قبر کھودنی پڑتی ہے۔
باب پنجم: قبرستان کی پکار
رات کی ہوا میں نمی اور مٹی کی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔ ماہ نور نے گاڑی پرانے قبرستان کے باہر روکی تو گھڑی بارہ بجا چکی تھی۔ اس نے فون کی روشنی جلائی اور ٹوٹی ہوئی دیوار کے اندر قدم رکھ دیا۔ قبرستان کے آخری کونے میں ایک لالٹین جل رہی تھی۔ اس کے پاس ایک بوڑھا شخص کھڑا تھا۔
ماہ نور کا دل زور سے دھڑکا۔ ’’آپ کون ہیں؟ کیا آپ واقعی میرے والد ہیں؟‘‘
بوڑھے شخص کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ ’’میرا نام سکندر ہے۔ تمہارے بچپن میں مجھے تم سے جدا کر دیا گیا تھا۔ کئی بار تم تک پہنچنے کی کوشش کی، مگر ہر بار کسی نے راستہ روک دیا۔‘‘
’’اگر آپ میرے والد ہیں تو ثبوت دکھائیں۔ میں اب کسی کی بات پر یقین نہیں کر سکتی۔‘‘ سکندر نے ایک چاندی کا لاکٹ نکالا۔ اس کے اندر ننھی بچی کی تصویر تھی۔ ماہ نور نے اپنی گردن سے لاکٹ نکالا تو دونوں کے اندر کندہ نشان ایک جیسے تھے۔
ایک باپ، دو نام
سکندر اسے ایک پرانی قبر کے پاس لے گیا۔ کتبے پر نام مٹا ہوا تھا، مگر پتھر کے نچلے حصے پر وہی نشان بنا تھا جو پرانی ڈائری پر موجود تھا۔
ماہ نور کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ ’’تو پھر مجھے کیوں بتایا گیا کہ میرے والد مر چکے ہیں؟‘‘
’’کیونکہ تمہاری حفاظت کے لیے تمہیں ایک محفوظ گھر دیا گیا۔ جس شخص کو تم نے ساری زندگی ابو کہا، وہ تمہارے اصل والد نہیں تھے، مگر انہوں نے تمہیں اپنی بیٹی سے بڑھ کر چاہا۔ انہوں نے تمہیں دشمنوں سے بچایا اور اپنی جان بھی اسی راز کی حفاظت میں کھو دی۔‘‘
ماہ نور کے لیے باپ وہی تھا جس نے اسے چلنا سکھایا، اس کے آنسو پونچھے اور ہر مشکل میں ساتھ دیا تھا۔ خون کا رشتہ ایک حقیقت تھا، مگر محبت کا رشتہ بھی کسی سے کم نہیں تھا۔
ارحم کا اعتراف
پیچھے جھاڑیوں میں آہٹ ہوئی۔ ارحم سامنے آیا۔ ماہ نور چونکی۔ ’’تم نے کہا تھا تم میرا پیچھا نہیں کرو گے!
Read also: 👉 High Cholesterol: Symptoms, Causes, Foods & Prevention
‘‘
’’میں دور ہی رہا تاکہ تم خود فیصلہ کر سکو،‘‘ ارحم نے کہا۔ اس نے ایک پرانا لفافہ نکالا۔ ’’میرے والد پولیس افسر تھے۔ انہوں نے اس کیس کی تفتیش کی تھی۔ ان کی موت کے بعد مجھے کامران کا خط ملا، جس میں تمہیں محفوظ رکھنے کی درخواست تھی۔‘‘
ارحم نے سر جھکا لیا۔ ’’تم ٹھیک کہتی ہو۔ میں نے تمہیں بچانے کی کوشش میں تم سے سچ چھپایا۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں، مگر تم پر میرا کوئی حق نہیں جب تک تم خود مجھے اپنی زندگی میں جگہ نہ دو۔‘‘
ماہ نور نے جواب نہ دیا، مگر اس کی آنکھوں کی سختی کچھ نرم پڑ گئی۔ سکندر نے فائل کھولی۔ اس میں جعلی دستخط، کمپنی کے حسابات اور ایک نام بار بار درج تھا: فرید عالم، خاندان کا سابق کاروباری شریک۔
اصل دشمن کا نام
’’زایان نے کچھ کاغذات چھپائے تھے،‘‘ سکندر نے بتایا، ’’کیونکہ وہ اپنے خاندان کے ایک فرد کو بچانا چاہتا تھا۔ مگر ہمیں اصل ریکارڈ چاہیے۔‘‘
اسی وقت ماہ نور کے فون پر پیغام آیا: ’’فائل لے کر پرانی مل میں آؤ۔ پولیس کو بتایا تو سکندر غائب ہو جائے گا۔‘‘
ماہ نور نے فون مضبوطی سے پکڑا۔ ’’اب فیصلے میں کروں گی۔ ہم ثبوت پولیس کو دیں گے۔ کوئی مجھے دھمکی دے کر خاموش نہیں کرا سکتا۔‘‘
مل میں بچھا جال
صبح ہونے سے پہلے انہوں نے فائل ایک قابلِ اعتماد تفتیشی افسر تک پہنچا دی۔ پھر محفوظ فاصلے سے پرانی مل کی نگرانی کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد زایان باہر آیا، اس کے پیچھے فرید عالم تھا۔
فرید بھاگنے لگا، مگر پولیس اہلکاروں نے اسے روک لیا۔ اس کے کوٹ سے اصل معاہدے کی نقل اور ایک ڈائری برآمد ہوئی۔ زایان نے ماہ نور کے سامنے سر جھکا دیا۔
’’میں نے تم سے بھی سچ چھپایا۔ میں معافی کا حق دار نہیں، مگر سچ بتانا میرا فرض تھا۔‘‘
ماہ نور نے فوراً اسے معاف نہیں کیا۔ کچھ زخم وقت مانگتے ہیں۔ مگر پہلی بار اسے لگا کہ اندھیرے کے اندر ایک راستہ روشن ہو رہا ہے۔
اگلی اور آخری قسط میں…
فرید عالم کی گرفتاری کے بعد بھی ایک سوال باقی ہے: ماہ نور کے والد کی موت میں کس نے آخری کردار ادا کیا؟ کیا سکندر اپنی بیٹی کے ساتھ نئی زندگی شروع کر پائے گا؟ اور کیا ماہ نور ارحم کو دوبارہ اعتماد کا موقع دے گی؟ آخری حصے میں تمام اہم راز کھلیں گے اور محبت کو اپنا فیصلہ کرنا ہوگا۔
جاری ہے…
Part 1 parhny ky liye yahan
Part 2 parhny ky liye yahan
Part 3 parhny ky liye yahan
Part 4 parhny ky liye yahan
Part 6 parhny ky liye yahan
click karin

0 Comments