زندگی اور محبت
بدل دیتی ہیں، اور کچھ راز پوری زندگی برباد کر دیتے ہیں۔
باب اول: وہ آخری خط
رات کے بارہ بج رہے تھے۔
آسمان پر چھائے سیاہ بادلوں سے بارش مسلسل برس رہی تھی۔ شہر کی روشن سڑکیں سنسان ہو چکی تھیں، لیکن پرانی حویلی کی دوسری منزل پر جلتی ہوئی ایک مدھم روشنی کسی کے جاگنے کی گواہی دے رہی تھی۔
حویلی کے باہر کھڑی سفید گاڑی کے شیشے پر بارش کی بوندیں پھسل رہی تھیں۔
اور حویلی کے اندر، انیس سالہ ماہ نور اپنے ہاتھ میں پکڑے خط کو بار بار پڑھ رہی تھی۔
اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
خط پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:
ماہ نور کی سانس جیسے سینے میں رک گئی۔
’’یہ نہیں ہو سکتا… یہ جھوٹ ہے!‘‘ اس نے خود سے کہا۔
لیکن خط کے نیچے لکھا نام اس کے وجود کو ہلا دینے کے لیے کافی تھا۔
وہی ارحم شاہ، جس سے اس کی شادی صرف تین دن بعد ہونے والی تھی۔
وہی شخص جس کی آنکھوں میں دیکھ کر ماہ نور نے پہلی بار محبت پر یقین کیا تھا۔
وہی شخص جس نے اس کے آنسوؤں کو اپنی ہتھیلی پر سمیٹ کر کہا تھا:
تو کیا وہ وعدہ بھی جھوٹ تھا؟
اچانک کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔
ماہ نور نے گھبرا کر خط تکیے کے نیچے چھپا دیا۔
’’کون؟‘‘
’’میں ہوں، بیٹا۔‘‘
یہ اس کی والدہ کی آواز تھی۔
ماہ نور نے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑی اپنی ماں کا زرد چہرہ دیکھ کر چونک گئی۔
’’امی، آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟‘‘
اس کی ماں نے جواب دینے کے بجائے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
’’ماہ نور، تم مجھ سے ایک وعدہ کرو گی؟‘‘
’’کیسا وعدہ، امی؟‘‘
ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
ماہ نور کے قدموں تلے جیسے زمین نکل گئی۔
’’امی! آپ ارحم کا نام کیوں لے رہی ہیں؟ آپ کو کیا معلوم ہے؟‘‘
اس کی ماں نے فوراً اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔
’’خاموش! اس گھر کی دیواروں کے بھی کان ہیں۔‘‘
اسی لمحے نیچے مرکزی دروازہ زور سے بند ہونے کی آواز آئی۔
دونوں چونک کر رہ گئیں۔
کسی کے بھاری قدم سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔
ایک قدم…
پھر دوسرا…
اور پھر اچانک ماہ نور کے کمرے کے باہر خاموشی چھا گئی۔
دروازے کے نیچے سے ایک سفید لفافہ اندر سرکا دیا گیا۔
ماہ نور نے کانپتے ہاتھوں سے لفافہ اٹھایا۔ اس کے اندر ایک تصویر تھی۔
تصویر میں اس کے والد کھڑے تھے، ان کے ساتھ ایک نوجوان تھا، اور اس نوجوان کا چہرہ دیکھ کر ماہ نور کی آنکھیں پھیل گئیں۔
وہ ارحم تھا۔
لیکن تصویر کے پیچھے لکھی تاریخ اس کی سمجھ سے باہر تھی۔
یہ تصویر اس کے والد کی موت سے ایک دن پہلے کی تھی۔
اور اس کے نیچے سرخ روشنائی سے لکھا تھا:
ماہ نور کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اس نے فوراً دروازہ کھولا۔
باہر کوئی نہیں تھا۔
صرف ایک سیاہ گلاب فرش پر پڑا تھا۔
اور اس گلاب کے ساتھ ایک چھوٹی سی پرچی…
جس پر لکھا تھا:
ماہ نور نے پرچی کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ اگلی رات اس کی زندگی کا سب سے بڑا راز کھلنے والا ہے۔
یا پھر…
وہ خود ایک ایسے راز کا حصہ بننے والی ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
اگلی قسط میں…
کیا ارحم واقعی ماہ نور کے والد کی موت کا ذمہ دار تھا؟ پرانے قبرستان میں ماہ نور کس سے ملنے جائے گی؟ اور وہ شخص کون تھا جو حویلی کے اندر آ کر بغیر کسی کو نظر آئے واپس چلا گیا؟
جاری ہے…

0 Comments