زندگی اور محبت
کچھ سچ رشتے توڑ دیتے ہیں، اور کچھ سچ انسان کو خود سے ملا دیتے ہیں۔
باب چہارم: قبر میں کون تھا؟
تہہ خانے میں جلتا ہوا واحد بلب بار بار بجھ رہا تھا۔ ماہ نور دروازے کے سامنے ساکت کھڑی تھی۔ اس کے سامنے موجود شخص کا چہرہ اس کے والد سے حیرت انگیز حد تک ملتا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایسی اجنبیت تھی جو کسی اپنے میں نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ارحم نے ماہ نور کا بازو پکڑ کر اسے پیچھے کیا۔
اجنبی نے میز پر ایک پرانا شناختی کارڈ رکھ دیا۔ ’’نام جان کر کیا کرو گے؟ تم تو پہلے ہی اس خاندان کے لیے بہت کچھ کھو چکے ہو۔‘‘
ماہ نور نے کارڈ اٹھایا۔ تصویر اس کے والد کی تھی، مگر نام کسی اور شخص کا درج تھا۔ کارڈ کے پیچھے ایک جملہ لکھا تھا: ’’ایک نام، دو زندگیاں۔‘‘
اسی لمحے تہہ خانے کی روشنی بجھ گئی۔ اندھیرے میں کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی، پھر ماہ نور نے اپنے کان کے قریب ایک سرگوشی سنی:
روشنی واپس آئی تو اجنبی غائب تھا۔ دروازہ اندر سے بند تھا، اور میز پر صرف ایک چابی پڑی تھی۔
ارحم کی خاموشی کا مطلب
ماہ نور نے ارحم کو گھورا۔ ’’تم نے یہ سب پہلے کیوں نہیں بتایا؟‘‘ ارحم نے نظریں جھکا لیں۔ ’’کیونکہ مجھے خود پوری حقیقت معلوم نہیں تھی۔ تمہارے والد نے مجھ سے صرف ایک وعدہ لیا تھا: تمہیں اس رات کے بارے میں اس وقت تک کچھ نہ بتاؤں جب تک مجھے یقین نہ ہو جائے کہ تم محفوظ ہو۔‘‘
یہ جواب سن کر ماہ نور کے دل میں جیسے کچھ ٹوٹ گیا۔ ’’تم مجھے بچانے کے نام پر مجھ سے سچ چھپاتے رہے۔ شاید تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ جھوٹ بھی زخم دیتا ہے۔‘‘
ارحم نے اس کی طرف قدم بڑھایا، مگر وہ پیچھے ہٹ گئی۔ ’’میں نے تم سے محبت کی ہے، ماہ نور۔ لیکن میں تمہیں ایسی حقیقت میں دھکیلنا نہیں چاہتا تھا جس سے تمہاری پوری دنیا بکھر جاتی۔‘‘
ماہ نور نے تہہ خانے کی دیوار پر بنے نقشے کو دیکھا۔ ایک کونے میں چھوٹا سا نشان تھا، جو حویلی کے پچھلے باغ میں واقع پرانے کنویں کی طرف اشارہ کرتا تھا۔
کنویں کے نیچے چھپا صندوق
رات کے آخری پہر ماہ نور اور ارحم باغ میں پہنچے۔ کنویں کے قریب مٹی تازہ کھدی ہوئی تھی۔ مٹی ہٹانے پر لوہے کا ایک چھوٹا صندوق نظر آیا۔ اندر ایک آڈیو ریکارڈر، خون آلود رومال اور ایک خط تھا جس پر ماہ نور کی والدہ کا نام لکھا تھا۔
ماہ نور نے ریکارڈر چلایا۔ کچھ لمحے خاموشی رہی، پھر اس کے والد کی آواز ابھری۔
ریکارڈنگ میں کاغذ سرکنے کی آواز آئی۔ پھر اس کے والد نے کہا، ’’میں نے زایان کو سچ بتانے کی کوشش کی، لیکن اس سے پہلے ہی—‘‘ آواز اچانک کٹ گئی۔
خط جس نے ماں کو توڑ دیا
ماہ نور نے خط کھولا۔ اس کی والدہ کی لکھائی میں درج تھا:
ماہ نور فوراً حویلی کی طرف بھاگی۔ اس کی والدہ وہاں موجود نہیں تھیں۔ میز پر فون رکھا تھا، جس پر پیغام آیا: ’’اگر تم اپنی ماں کو زندہ دیکھنا چاہتی ہو تو صبح ہونے سے پہلے پرانی حویلی پہنچ جاؤ۔ پولیس کو خبر کی تو تمہیں صرف ان کی چیزیں ملیں گی۔‘‘
پیغام کے ساتھ ایک تصویر تھی۔ اس میں ماہ نور کی والدہ ایک کرسی پر بیٹھی تھیں، اور ان کے پیچھے دیوار پر وہی نشان بنا تھا جو پرانی ڈائری میں موجود تھا۔
پرانی حویلی کا آخری کمرہ
پرانی حویلی شہر کے کنارے کھڑی تھی۔ اندر داخل ہوتے ہی ماہ نور کو اپنی ماں کی آواز سنائی دی۔ وہ ایک کمرے میں بند تھیں۔ ماہ نور نے انہیں گلے لگا لیا، مگر اس کی والدہ کی نگاہیں ارحم پر جمی رہیں۔
ماہ نور نے ارحم کی طرف دیکھا۔ وہ انکار نہیں کر رہا تھا۔ ’’یہ سچ ہے؟‘‘
’’ہاں، میں وہاں تھا،‘‘ ارحم نے کہا۔ ’’لیکن میں تمہارے والد کو نقصان پہنچانے نہیں، انہیں بچانے پہنچا تھا۔ جب میں اندر گیا تو وہ پہلے ہی زخمی تھے۔ انہوں نے مجھے ایک لفافہ دیا اور کہا کہ تمہیں سچ سے دور رکھوں، یہاں تک کہ تم خود اسے برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘‘
’’پھر تم نے مجھے یہ کیوں نہیں بتایا؟‘‘
’’کیونکہ لفافے میں جس شخص کا نام تھا، وہ تمہاری زندگی کا سب سے قریبی انسان تھا۔‘‘
اسی وقت کمرے کے باہر قدموں کی آواز آئی۔ دروازہ بند ہوا اور تالا لگ گیا۔ پھر زایان کی آواز گونجی:
آخری انکشاف
زایان اندر آیا اور ماہ نور کے سامنے ایک پرانا لفافہ رکھ دیا۔ ’’تمہارے والد نے اپنی موت سے پہلے یہ میرے حوالے کیا تھا۔ اس میں اصل وصیت اور ایک ایسی تصویر ہے جسے دیکھ کر تم سمجھ جاؤ گی کہ تمہارے خاندان میں سب سے بڑا جھوٹ کس نے بولا۔‘‘
ماہ نور نے تصویر دیکھی۔ اس میں اس کے والد، اس کی والدہ اور ایک تیسرا شخص کھڑے تھے۔ تیسرے شخص کا چہرہ سیاہی سے مٹا دیا گیا تھا، مگر اس کے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی بالکل ویسی تھی جیسی ارحم کی انگلی میں تھی۔
ارحم نے اپنی انگوٹھی اتار کر میز پر رکھ دی۔ ’’یہ انگوٹھی میرے والد کی تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں تمہارے والد کا قاتل ہوں۔‘‘
زایان نے کہا، ’’یہ انگوٹھی صرف ایک خاندان کی نشانی نہیں۔ یہ اس معاہدے کی علامت ہے جس نے دو خاندانوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا۔‘‘
ماہ نور نے وصیت کھولی۔ آخری سطر میں لکھا تھا:
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ پھر ماہ نور کی والدہ نے زایان کی طرف دیکھا۔ ’’اب اسے آخری بات بھی بتا دو۔‘‘
زایان نے ماہ نور کی طرف رخ کیا۔ ’’ماہ نور… جس شخص کو تم نے اپنے والد سمجھ کر دفن کیا تھا، وہ تمہارے والد نہیں تھے۔ تمہارے اصل والد آج بھی زندہ ہیں۔‘‘
اسی لمحے ارحم کا فون بجا۔ دوسری طرف سے آواز آئی: ’’اگر ماہ نور کو اصل والد سے ملانا ہے تو اسے اکیلے پرانے قبرستان لے آؤ۔ اس بار غلطی ہوئی تو کوئی واپس نہیں آئے گا۔‘‘
ماہ نور نے آنسو صاف کیے، وصیت اٹھائی اور دروازے کی طرف قدم بڑھایا۔ ’’اب میں کسی کے جھوٹ سے نہیں ڈروں گی۔ چاہے سچ مجھے توڑ ہی کیوں نہ دے۔‘‘
اگلی قسط میں…
کیا ماہ نور اپنے اصل والد سے مل پائے گی؟ قبرستان میں کون اس کا انتظار کر رہا ہے؟ اور جس شخص کو اس نے ساری زندگی اپنا والد سمجھا، اس کی اصل شناخت کیا تھی؟ اگلی قسط میں محبت، وفاداری اور خاندانی راز ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچیں گے۔
جاری ہے…
Part 1 parhny ky liye yahan
Part 2 parhny ky liye yahan
Part 3 parhny ky liye yahan

0 Comments