Advertisement

Responsive Advertisement

زندگی اور محبت قسط 1 حصہ دوم | اردو سسپنس ناول

, 

زندگی اور محبت

 

Zindagi Aur Muhabbat Urdu suspense novel episode 1 part 2 featuring Mahnoor and Arham at a mysterious

جس شخص سے دل محبت کرتا ہے، کبھی کبھی سب سے بڑا خوف بھی اسی سے ہوتا ہے۔
ایک پُراسرار رومانوی ناول
قسط نمبر 1 — حصہ دوم
تحریر: ثنا اسٹوری ورلڈ

باب دوم: آدھی رات کا راز

رات بھر ماہ نور کی آنکھوں میں نیند نہیں اتری۔

اس کے سامنے بار بار وہی تصویر آ رہی تھی، جس میں ارحم اس کے والد کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ تصویر صرف ایک تصویر نہیں تھی، بلکہ اس کی محبت، اس کے یقین اور اس کے آنے والے کل پر ایک سوالیہ نشان تھی۔

کیا ارحم نے واقعی اس سے جھوٹ بولا تھا؟

یا کوئی جان بوجھ کر ان دونوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنا چاہتا تھا؟

ماہ نور نے تکیے کے نیچے سے خط نکالا اور ایک بار پھر اسے پڑھنے لگی۔

’’اگر تم نے کل اس شخص سے شادی کی، تو تم اپنے باپ کے قاتل سے نکاح کرو گی۔‘‘

اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

’’ارحم… اگر یہ سب سچ ہوا تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کر سکوں گی۔‘‘

مگر دل کا ایک کونا اب بھی اس کی محبت پر یقین کرنے کو تیار تھا۔

صبح ہوتے ہی اس نے فیصلہ کر لیا۔

وہ پرانے قبرستان ضرور جائے گی۔

چاہے وہاں اس کی زندگی کا سب سے خوفناک سچ اس کا انتظار کر رہا ہو۔

ایک اجنبی فون کال

دوپہر کے وقت ماہ نور اپنے کمرے میں بیٹھی تھی کہ اچانک اس کا فون بج اٹھا۔

نامعلوم نمبر۔

اس نے چند لمحے اسکرین کو دیکھا، پھر کال اٹھا لی۔

’’ہیلو؟‘‘

دوسری طرف چند لمحوں تک خاموشی رہی۔

پھر ایک بھاری مردانہ آواز سنائی دی۔

’’ماہ نور بی بی، اگر اپنی جان عزیز ہے تو آج رات قبرستان مت آنا۔‘‘

ماہ نور کا دل زور سے دھڑکا۔

’’آپ کون ہیں؟ اور آپ کو میرا نام کیسے معلوم؟‘‘

’’نام جاننا مشکل نہیں ہوتا، بی بی۔ مشکل یہ جاننا ہے کہ اپنے کون ہیں اور پرائے کون۔‘‘

’’مجھے صاف صاف بتائیں! میرے ابو کے ساتھ کیا ہوا تھا؟‘‘

دوسری طرف سے ایک تلخ ہنسی سنائی دی۔

’’تمہارے والد کی موت حادثہ نہیں تھی۔‘‘

ماہ نور کے ہاتھ سے فون تقریباً چھوٹ گیا۔

’’کیا مطلب؟‘‘

’’اور جس شخص کے ساتھ تم شادی کرنے جا رہی ہو، وہ اس رات وہاں موجود تھا۔‘‘

’’نہیں! ارحم ایسا نہیں کر سکتا!‘‘

’’تو پھر اس سے پوچھنا کہ تمہارے والد کی موت والی رات اس کی قمیص پر خون کیوں تھا۔‘‘

اگلے ہی لمحے کال منقطع ہو گئی۔

ماہ نور ساکت بیٹھی رہی۔

اس کے ذہن میں صرف ایک سوال گونج رہا تھا۔

اگر ارحم بے قصور تھا، تو وہ اس رات وہاں کیا کر رہا تھا؟

محبت یا دھوکہ؟

شام کو ارحم اس سے ملنے حویلی آیا۔

وہ ہمیشہ کی طرح خوبصورت سیاہ لباس میں تھا۔ اس کے چہرے پر وہی سکون اور آنکھوں میں وہی اپنائیت تھی، جسے دیکھ کر ماہ نور کا دل کبھی بے اختیار مسکرا اٹھتا تھا۔

’’ماہ نور!‘‘ اس نے مسکرا کر کہا، ’’کل ہماری شادی کی تیاریوں کا آخری دن ہے، اور تم یہاں اداس بیٹھی ہو؟‘‘

ماہ نور نے اس کی طرف دیکھا۔

’’ارحم، مجھے تم سے ایک سوال پوچھنا ہے۔‘‘

’’پوچھو، جان۔‘‘

یہ لفظ سن کر اس کی آنکھوں میں آنسو چمک اٹھے۔ کبھی یہی لفظ اس کے لیے دنیا کی سب سے خوبصورت آواز ہوا کرتا تھا۔

’’میرے ابو کی موت والی رات تم کہاں تھے؟‘‘

ارحم کی مسکراہٹ اچانک غائب ہو گئی۔

صرف ایک لمحے کے لیے۔

مگر ماہ نور نے وہ لمحہ دیکھ لیا تھا۔

’’تم یہ سوال کیوں پوچھ رہی ہو؟‘‘ اس نے دھیمی آواز میں کہا۔

’’بس جواب دو۔‘‘

ارحم نے نظریں پھیر لیں۔

’’میں شہر سے باہر تھا۔‘‘

ماہ نور کے دل میں کچھ ٹوٹ گیا۔

’’تم جھوٹ بول رہے ہو۔‘‘

ارحم نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔

’’ماہ نور!‘‘

’’میرے پاس تمہاری تصویر ہے۔ تم میرے ابو کے ساتھ تھے۔ اور مجھے بتایا گیا ہے کہ تم اس رات وہاں موجود تھے۔‘‘

ارحم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

’’کس نے بتایا تمہیں یہ سب؟‘‘

’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ کیا تصویر جھوٹی ہے؟‘‘

ارحم نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی، مگر ماہ نور پیچھے ہٹ گئی۔

’’مجھے جواب چاہیے، ارحم!‘‘

وہ چند لمحے خاموش رہا۔ پھر اس نے ایسی بات کہی جس نے ماہ نور کے دل میں ایک نیا خوف پیدا کر دیا۔

’’تمہارے ابو کی موت کے بارے میں جو کچھ تم جانتی ہو، وہ مکمل سچ نہیں ہے۔‘‘

’’تو مکمل سچ کیا ہے؟‘‘

ارحم نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا:

’’اگر میں نے تمہیں سب کچھ بتا دیا، تو شاید تم مجھ سے ہمیشہ کے لیے نفرت کرنے لگو گی۔‘‘

ماہ نور کے آنسو بہہ نکلے۔

’’اور اگر تم نے نہیں بتایا، تو شاید میں خود کو کبھی معاف نہیں کر سکوں گی۔‘‘

ارحم نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ اس کے چہرے پر درد تھا، مگر وہ پھر بھی خاموش رہا۔

آخرکار وہ دروازے کی طرف بڑھا۔ جاتے جاتے رک کر بولا:

’’ماہ نور، آج رات قبرستان مت جانا۔ وہاں جو تمہارا انتظار کر رہا ہے، وہ تمہارا خیرخواہ نہیں ہے۔‘‘

ماہ نور کے قدم جم گئے۔

اسے قبرستان والی پرچی کے بارے میں ارحم کو کچھ بتایا ہی نہیں تھا۔

تو پھر اسے کیسے معلوم تھا؟

پرانے قبرستان کی سیاہ رات

رات کے گیارہ بج کر پچاس منٹ ہو رہے تھے۔

بارش ایک بار پھر شروع ہو چکی تھی۔

ماہ نور نے سیاہ چادر اوڑھی، خط اور تصویر اپنے بیگ میں رکھی اور خاموشی سے حویلی سے باہر نکل گئی۔

وہ جانتی تھی کہ یہ فیصلہ خطرناک ہے۔ لیکن بعض سوال انسان کو خوف سے زیادہ بے چین کر دیتے ہیں۔

بارہ بجنے میں صرف پانچ منٹ باقی تھے جب وہ پرانے قبرستان کے زنگ آلود دروازے کے سامنے پہنچی۔

دروازہ ہلکے سے دھکیلا تو ایک خوفناک چرچراہٹ کے ساتھ کھل گیا۔

اندر اندھیرا تھا۔

دور ایک پرانی قبر کے پاس لالٹین جل رہی تھی۔

اور اس کے قریب کوئی شخص کھڑا تھا۔

’’کون ہے؟‘‘ ماہ نور نے آواز لگائی۔

وہ شخص آہستہ آہستہ اس کی طرف مڑا۔ اس کا چہرہ اب بھی اندھیرے میں چھپا ہوا تھا۔

’’تم آ گئیں، ماہ نور۔‘‘

’’آپ نے مجھے یہاں کیوں بلایا؟ میرے ابو کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟‘‘

اس شخص نے جیب سے ایک پرانی تصویر نکالی اور اس کی طرف بڑھا دی۔

’’اسے غور سے دیکھو۔‘‘

ماہ نور نے تصویر لی۔

تصویر میں اس کے والد، ارحم اور ایک تیسرا شخص موجود تھا۔

لیکن تیسرا شخص دیکھ کر اس کی سانس رک گئی۔

وہ اس کے اپنے گھر کا فرد تھا۔ وہ شخص جس پر اس نے ساری زندگی اعتبار کیا تھا۔

ماہ نور کے ہونٹ کانپنے لگے۔

’’یہ… یہ یہاں کیسے؟‘‘

اجنبی نے دھیمی آواز میں کہا:

’’تمہارے والد کو خطرہ ارحم سے نہیں، اس شخص سے تھا۔‘‘

ماہ نور نے نظریں اٹھائیں۔

’’تو پھر ارحم نے سچ کیوں چھپایا؟‘‘

اجنبی چند لمحے خاموش رہا۔ پھر اس نے جواب دیا:

’’کیونکہ تمہارے والد نے مرنے سے پہلے اس سے وعدہ لیا تھا کہ وہ تمہیں اس راز سے دور رکھے گا۔‘‘

ماہ نور کی آنکھوں میں بے یقینی پھیل گئی۔

’’میرے ابو نے؟ لیکن کیوں؟‘‘

اجنبی نے قبر کے قریب پڑا ایک چھوٹا سا ڈبہ اٹھایا اور اس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔

’’اس میں وہ چیز ہے جس کے لیے تمہارے والد کی جان لی گئی۔‘‘

ماہ نور نے ڈبہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اچانک پیچھے سے کسی نے اس کا نام پکارا۔

’’ماہ نور! ڈبہ مت کھولنا!‘‘

وہ آواز پہچانتے ہی پلٹی۔

’’ارحم!‘‘

وہ بارش میں بھیگا ہوا تیزی سے ان کی طرف آ رہا تھا۔ لیکن اس کے چہرے پر محبت نہیں، خوف تھا۔

اور پھر اگلے ہی لمحے اندھیرے میں ایک گولی چلنے کی آواز گونجی۔

ماہ نور چیخ اٹھی۔

ڈبہ اس کے ہاتھ سے گر گیا۔

ارحم نے دوڑ کر ماہ نور کو اپنی بانہوں میں کھینچ لیا۔

’’ماہ نور! میری طرف دیکھو، تمہیں کچھ ہوا تو نہیں؟‘‘

مگر ماہ نور کی نظریں زمین پر پڑے اس ڈبے پر جمی تھیں۔

اس کا ڈھکن کھل چکا تھا۔

اندر ایک پرانی گھڑی، خون آلود کپڑے کا ٹکڑا اور ایک خط تھا۔

خط کے اوپر اس کے والد کے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک جملہ تھا:

’’ماہ نور کے لیے… جب اسے معلوم ہو جائے کہ اس کا اصل دشمن کون ہے۔‘‘

ماہ نور نے خط اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔

ارحم نے فوراً اس کا ہاتھ روک لیا۔

’’نہیں، ماہ نور! ابھی نہیں!‘‘

اس نے روتے ہوئے پوچھا:

’’کیوں؟ تم مجھ سے کیا چھپا رہے ہو؟‘‘

ارحم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

’’کیونکہ اس خط میں تمہارے والد کا وہ آخری راز ہے، جس کے سامنے ہماری محبت بھی بے معنی ہو سکتی ہے۔‘‘

ماہ نور نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔

’’مجھے اب تمہاری محبت نہیں، سچ چاہیے!‘‘

ارحم خاموش ہو گیا۔

اور اسی لمحے زمین پر پڑے اجنبی نے آخری بار آنکھیں کھولیں۔

اس کے ہونٹ ہلے۔

’’ارحم… اسے بتا دو… ورنہ وہ بھی…‘‘

اس کی آواز رک گئی۔

ماہ نور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔

’’وہ بھی کیا؟ کون؟‘‘

لیکن جواب دینے والا اب خاموش ہو چکا تھا۔

ارحم نے آہستہ سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

’’ماہ نور… ہمیں یہاں سے جانا ہوگا۔‘‘

وہ اس کی طرف مڑی۔

’’میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گی، جب تک تم مجھے یہ نہیں بتاتے کہ میرے ابو کے قاتل کا نام کیا ہے!‘‘

ارحم نے آنکھیں بند کر لیں۔

چند لمحوں بعد اس نے وہ نام لیا جسے سننے کے لیے ماہ نور کا دل بالکل تیار نہیں تھا۔

اور وہ نام سنتے ہی…

ماہ نور کے ہاتھ سے خط گر گیا۔

کیونکہ وہ نام کسی اجنبی کا نہیں تھا۔

وہ اس شخص کا نام تھا جسے وہ اپنی زندگی میں سب سے زیادہ عزیز سمجھتی تھی۔

اگلی قسط میں کیا ہوگا؟

کیا ماہ نور اپنے گھر کے فرد کو اپنے والد کا قاتل مان لے گی؟ ڈبے میں موجود خط کا باقی حصہ کیا راز کھولے گا؟ اور کیا ارحم کی خاموشی محبت کی قربانی تھی یا کسی بڑے جرم کا ثبوت؟

جاری ہے…

Part 1 parhy ky liye yahan

 click karin 

Part 3 parhny ky liye yahan 

click Karin   

Post a Comment

0 Comments