Advertisement

Responsive Advertisement

زندگی اور محبت قسط 1 حصہ سوم | Urdu Suspense Novel

 

زندگی اور محبت

Zindagi Aur Muhabbat Episode 1 Part 3 Urdu Romantic Suspense Novel by SanaStoryWorld


کبھی کبھی سب سے بڑا راز وہ ہوتا ہے جسے ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر بھی پہچان نہیں پاتے۔
ایک پُراسرار رومانوی سسپنس ناول
قسط نمبر 1 — حصہ سوم
تحریر: ثنا اسٹوری ورلڈ

باب سوم: اجنبی کا دعویٰ

حویلی کے دروازے پر کھڑا شخص ماہ نور کو مسلسل دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے کے نقوش کسی مانوس یاد کی طرح تھے، مگر ماہ نور کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس نے اسے کہاں دیکھا ہے۔ اس کے ہاتھ میں موجود پرانی گھڑی پر وہی نشان بنا تھا جو اس کے والد کی گھڑی پر ہوا کرتا تھا۔

’’تم کون ہو؟‘‘ ماہ نور نے بمشکل پوچھا۔

’’میں وہ ہوں جس کا نام تمہارے خاندان نے برسوں پہلے مٹا دیا تھا۔‘‘

ماہ نور کی والدہ فوراً آگے بڑھیں۔ ’’اس کی باتوں میں مت آنا، ماہ نور! یہ جھوٹا ہے۔‘‘

اجنبی نے ان کی طرف دیکھا، مگر اس کے چہرے پر غصے کے بجائے گہرا دکھ تھا۔

’’اگر میں جھوٹا ہوں تو پھر بتائیے، آپ نے یہ گھڑی اتنے سال اپنے پاس کیوں چھپا کر رکھی؟ اور ہر سال اسی تاریخ کو بند کمرے میں جا کر کس سے بات کرتی رہی ہیں؟‘‘

ماہ نور نے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔ ان کی خاموشی نے اس کے دل میں شک کو اور گہرا کر دیا۔

’’امی… آپ اسے جانتی ہیں؟‘‘

ماں کے ہونٹ ہلے، مگر آواز نہ نکلی۔ پھر انہوں نے صرف اتنا کہا، ’’اس شخص کو گھر کے اندر مت آنے دینا۔‘‘

اجنبی نے جیب سے ایک پرانی تصویر نکالی اور ماہ نور کے ہاتھ میں رکھ دی۔ تصویر میں اس کے والد کے ساتھ دو بچے کھڑے تھے۔ ایک بچی ماہ نور تھی، مگر دوسرا بچہ اس سے چند سال بڑا تھا۔ تصویر کے پیچھے لکھا تھا: ’’میرے دونوں بچوں کے نام۔‘‘

ماہ نور کی انگلیاں سرد پڑ گئیں۔

’’میرے ابو کے دو بچے تھے؟‘‘

اس نے سر اٹھایا، مگر اجنبی اب دروازے پر نہیں تھا۔ وہ حویلی کے صحن کی طرف جا چکا تھا، جیسے اسے یقین ہو کہ ماہ نور اس کے پیچھے ضرور آئے گی۔

ماں کی خاموشی

ماہ نور اپنی والدہ کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ ’’مجھے آج سب کچھ جاننا ہے۔ یہ تصویر کیا ہے؟ وہ دوسرا بچہ کون ہے؟ اور آپ نے مجھ سے یہ بات کیوں چھپائی؟‘‘

ماں نے کرسی کا سہارا لیا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، لیکن وہ اب بھی سچ بولنے سے ہچکچا رہی تھیں۔

’’تمہارے والد نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں تمہیں اس لڑکے سے دور رکھوں گی۔ وہ جہاں بھی ہو، تمہاری زندگی میں واپس نہیں آنا چاہیے تھا۔‘‘

’’کیوں؟ کیا وہ خطرناک ہے؟‘‘

’’خطرہ صرف اس لڑکے سے نہیں تھا، ماہ نور۔ خطرہ اس حقیقت سے تھا جو اس کے ساتھ واپس آتی۔‘‘

ماہ نور نے تصویر سینے سے لگا لی۔ ’’آپ سب مجھے بچانے کے نام پر مجھ سے میری زندگی چھینتے رہے۔ میں اب مزید کوئی آدھا سچ نہیں سنوں گی۔‘‘

اس کی والدہ نے آنکھیں بند کر لیں۔ ’’اس کا نام زایان ہے۔ تمہارے والد اسے اپنا بیٹا کہتے تھے، مگر وہ میرے بطن سے پیدا نہیں ہوا تھا۔ اس کی ماں تمہارے والد کی زندگی کا وہ باب تھی جس کے بارے میں انہوں نے کبھی کسی سے بات نہیں کی۔‘‘

ماہ نور نے بے یقینی سے پوچھا، ’’تو کیا ابو کی کوئی دوسری زندگی بھی تھی؟‘‘

ماں نے سر جھکا لیا۔ ’’میں تمہیں اس سے زیادہ نہیں بتا سکتی۔‘‘

’’یا آپ بتانا نہیں چاہتیں؟‘‘ ماہ نور کی آواز ٹوٹ گئی۔

اسی وقت اوپر والی منزل سے ایک دروازہ زور سے بند ہونے کی آواز آئی۔ دونوں نے چونک کر سیڑھیوں کی طرف دیکھا۔

ماہ نور دوڑ کر اوپر پہنچی۔ اس کے والد کا پرانا کمرہ کھلا ہوا تھا، حالانکہ اس نے اسے بند کیا تھا۔ میز پر رکھی ڈائری غائب تھی۔ اس کی جگہ ایک موبائل فون رکھا تھا، جس کی اسکرین پر ایک ویڈیو کھلی ہوئی تھی۔

وہ ویڈیو جو نہیں دیکھی جانی چاہیے تھی

ماہ نور نے کانپتے ہاتھوں سے ویڈیو چلائی۔ اسکرین پر اس کے والد دکھائی دیے۔ ان کا چہرہ تھکا ہوا تھا اور آواز میں خوف نمایاں تھا۔

’’اگر تم یہ ویڈیو دیکھ رہی ہو، ماہ نور، تو اس کا مطلب ہے کہ زایان واپس آ گیا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس نے تمہیں کیا بتایا ہوگا، لیکن میری بات غور سے سننا۔ اس رات جو کچھ ہوا، اس کا ذمہ دار صرف ایک شخص نہیں تھا۔‘‘

ویڈیو چند لمحوں کے لیے رک گئی، پھر دوبارہ چلنے لگی۔

’’ارحم نے تم سے کچھ چھپایا ہے، مگر اس نے تمہارے ساتھ دھوکہ دینے کے لیے ایسا نہیں کیا۔ اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ تمہیں اس خاندان کے اصل دشمن سے محفوظ رکھے گا۔ اگر کبھی تمہیں ارحم اور زایان میں سے کسی ایک پر یقین کرنا پڑے، تو پہلے یہ معلوم کرنا کہ اس رات دروازہ کس نے کھولا تھا۔‘‘

اچانک ویڈیو میں کسی کے داخل ہونے کی آواز آئی۔ ماہ نور کے والد نے گھبرا کر کیمرے کی طرف دیکھا۔

’’نہیں… تم یہاں کیسے پہنچے؟‘‘

اسکرین ہل گئی۔ پھر ایک دھندلا سایہ سامنے آیا۔ اس کا چہرہ واضح نہیں تھا، لیکن اس کے ہاتھ میں وہی چابی تھی جو ماہ نور کو بند کمرے میں ملی تھی۔ چند سیکنڈ بعد ویڈیو ختم ہو گئی۔

ماہ نور نے موبائل نیچے کیا۔ اس کے ذہن میں صرف ایک بات گونج رہی تھی: دروازہ کس نے کھولا تھا؟

ارحم کا اعتراف

ماہ نور نے فوراً ارحم کو فون کیا۔ اس نے پہلی ہی گھنٹی پر کال اٹھا لی، جیسے وہ اسی کے فون کا انتظار کر رہا ہو۔

’’مجھے تم سے ابھی ملنا ہے۔‘‘

’’کیا ہوا، ماہ نور؟‘‘

’’میں نے ابو کی ویڈیو دیکھی ہے۔ انہوں نے تمہارا نام لیا ہے۔ اب مجھے سچ بتاؤ—اس رات کیا ہوا تھا؟‘‘

دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔ پھر ارحم نے دھیمی آواز میں کہا، ’’میں تمہیں سب بتاؤں گا، لیکن فون پر نہیں۔ پرانے پل کے پاس آ جاؤ۔ اکیلی آنا۔‘‘

ماہ نور کو اس کی بات پر بھروسا نہیں تھا، مگر اب اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا۔ وہ حویلی سے نکلی اور بارش میں بھیگتی سڑک پر چلنے لگی۔

پرانے پل کے نیچے ارحم پہلے سے موجود تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا لفافہ تھا۔

’’اس رات تمہارے والد نے مجھے فون کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ حویلی کا پچھلا دروازہ کسی نے کھول دیا ہے۔ میں وہاں پہنچا تو وہ زخمی تھے، اور ایک شخص بھاگ کر جا رہا تھا۔ میں اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا۔‘‘

’’پھر تم نے پولیس کو کیوں نہیں بتایا؟‘‘

’’میں نے بتایا تھا۔ مگر اگلے دن رپورٹ بدل دی گئی۔ گواہی دینے والا شخص غائب ہو گیا، اور میرے پاس صرف یہ لفافہ رہ گیا۔‘‘

ارحم نے لفافہ ماہ نور کی طرف بڑھایا۔ اس کے اندر ایک رسید، ایک تصویر اور ایک کاغذ تھا جس پر حویلی کے ملازمین کے نام درج تھے۔ ایک نام کے آگے سرخ دائرہ بنا تھا۔

ماہ نور نے نام پڑھا تو اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ شخص برسوں سے ان کے گھر میں کام کر رہا تھا، اور اس کے والد اس پر سب سے زیادہ اعتماد کرتے تھے۔

’’کیا یہ وہی شخص ہے جس نے دروازہ کھولا تھا؟‘‘

ارحم نے سر ہلایا۔ ’’مجھے یقین نہیں، لیکن اس کے پاس اس رات کی چابی تھی۔‘‘

ماہ نور نے لفافہ بند کیا۔ ’’تو پھر ہمیں اس سے بات کرنی ہوگی۔‘‘

ارحم نے فوراً اس کا ہاتھ تھام لیا۔ ’’نہیں! وہ شخص اب حویلی میں نہیں ہے۔ اور اگر اسے معلوم ہو گیا کہ تم نے یہ کاغذات دیکھ لیے ہیں، تو وہ تمہیں بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘‘

ماہ نور نے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔ ’’میں اب خوف کے پیچھے نہیں چھپوں گی۔‘‘

آخری دروازہ

دونوں حویلی واپس پہنچے تو مرکزی دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اندر اندھیرا تھا، اور معمول کے مطابق استقبال کرنے والا کوئی ملازم موجود نہیں تھا۔ ماہ نور نے ماں کو آواز دی، مگر کوئی جواب نہ آیا۔

وہ اپنے والد کے کمرے کی طرف بھاگی۔ میز پر ایک نیا خط رکھا تھا۔ اس کے اوپر لکھا تھا: ’’صرف ماہ نور کے لیے۔‘‘

اس نے خط کھولا۔

’’تم نے غلط شخص پر شک کیا ہے۔ ارحم تمہیں بچانا چاہتا ہے، لیکن وہ خود بھی پوری حقیقت نہیں جانتا۔ اگر اپنے والد کی آخری رات کا سچ جاننا چاہتی ہو تو آج رات بارہ بجے حویلی کے تہہ خانے میں آنا۔ کسی کو ساتھ مت لانا۔‘‘

ارحم نے خط پڑھا تو اس کا چہرہ سفید پڑ گیا۔

’’ماہ نور، تم وہاں نہیں جاؤ گی۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’کیونکہ اس تہہ خانے کو تمہارے والد نے اپنی موت سے ایک دن پہلے بند کروایا تھا۔ وہاں کچھ ایسا ہے جسے دیکھنے کے بعد کوئی بھی پہلے جیسا نہیں رہتا۔‘‘

ماہ نور نے خط تہہ کیا اور مضبوط آواز میں کہا، ’’میں جا رہی ہوں۔ تم ساتھ آنا چاہو تو آ سکتے ہو، لیکن مجھے اب کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘

رات کے بارہ بجنے میں چند منٹ باقی تھے۔ ماہ نور نے تہہ خانے کی سیڑھیوں پر قدم رکھا۔ نیچے سے ٹھنڈی ہوا آ رہی تھی۔ آخری سیڑھی پر پہنچ کر اس نے ایک بھاری دروازہ دیکھا۔ اس پر کوئی تالا نہیں تھا، صرف سرخ رنگ سے ایک جملہ لکھا تھا:

’’یہ دروازہ کھلا تو ایک مردہ شخص دوبارہ زندہ ہو جائے گا۔‘‘

ماہ نور نے دروازے کا دستہ پکڑا۔ پیچھے سے ارحم کی آواز آئی، ’’رک جاؤ!‘‘

لیکن اسی لمحے دروازہ خودبخود کھل گیا۔ اندر ایک کرسی پر کوئی شخص بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر سایہ تھا، مگر اس کی انگلی میں پہنی انگوٹھی ماہ نور فوراً پہچان گئی۔ وہ انگوٹھی اس کے والد کے ہاتھ میں ہوا کرتی تھی۔

وہ شخص آہستہ سے کھڑا ہوا اور بولا:

’’ماہ نور… آخر تم آ ہی گئیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تم جان لو، تمہارے والد کی موت کے دن قبر میں کون دفن تھا۔‘‘

ماہ نور کی سانس رک گئی۔ ارحم نے اسے پیچھے کھینچنے کی کوشش کی، مگر اس نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔

اجنبی نے چہرے سے سایہ ہٹایا۔

ماہ نور کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا—کیونکہ سامنے کھڑا شخص اس کے والد جیسا دکھائی دیتا تھا، مگر اس کی آواز کسی اور کی تھی۔

پھر اس نے وہ نام لیا جسے سن کر ارحم بھی پیچھے ہٹ گیا۔

اور تہہ خانے کا دروازہ زور سے بند ہو گیا۔

اگلی قسط میں…

تہہ خانے میں موجود شخص کون ہے؟ کیا ماہ نور کے والد کی موت کے بارے میں سب کچھ جھوٹ تھا؟ اور ارحم اس نام سے اتنا خوفزدہ کیوں ہو گیا؟ اگلی قسط میں راز کی ایک نئی تہہ کھلے گی، مگر شاید اس کی قیمت بہت بھاری ہو۔

جاری ہے…

Part 1 parhny ky liye yahan

 click karin

Part 2 parhyn ky liye yahan 

click karin 


Part 4 parhny ky liye yahan 

click karin 

SanaStoryWorld

جہاں ہر کہانی دل کو چھو لیتی ہے۔

مزید اردو ناولز، محبت کی کہانیوں اور سسپنس سے بھرپور اقساط کے لیے ہمارے ساتھ رہیے۔


Post a Comment

1 Comments