خاک سے خواب تک — قسط نمبر 3
تحریر: SanaStoryWorld
کبھی کبھی انسان جس شخص پر سب سے زیادہ بھروسا کرنا چاہتا ہے، اسی کے بارے میں سب سے زیادہ سوالات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ مریم کے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا۔ حارث کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ ”اگر اسے حقیقت معلوم ہو گئی تو سب کچھ بدل جائے گا!“
وہ دفتر کے راہداری میں چند لمحے خاموش کھڑی رہی۔ اس کے دل میں ایک طرف غصہ تھا اور دوسری طرف ایک ایسی بے چینی جسے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ آخر حارث کون سی حقیقت چھپا رہا تھا؟ اور اس کے والد کا تعلق اس معاملے سے کیا تھا؟
”مریم صاحبہ! آپ یہاں دیوار کو گھور رہی ہیں یا دیوار نے آپ کو کوئی نوکری دے دی ہے؟“
اسحاق کی آواز سن کر مریم چونک گئی۔ وہ ہاتھ میں چائے کا کپ لیے کھڑا تھا۔
”کچھ نہیں، اسحاق۔ بس سوچ رہی تھی۔“
”اتنی گہری سوچ؟ مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔ کہیں آپ نے میری تنخواہ بڑھوانے کا منصوبہ تو نہیں بنا لیا؟“
مریم نے بے دلی سے مسکرانے کی کوشش کی۔ ”تمہیں ہر وقت اپنی تنخواہ کی فکر رہتی ہے؟“
”بالکل! محبت میں انسان کا دل ٹوٹتا ہے، اور مہنگائی میں انسان کا بجٹ۔ میرے ساتھ تو دونوں حادثے ایک ہی وقت میں ہو رہے ہیں۔“
مریم ہنسنا چاہتی تھی، مگر اس کے ذہن میں حارث کی بات بار بار آ رہی تھی۔ اسحاق نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
”اچھا، مذاق الگ۔ آپ پریشان لگ رہی ہیں۔ کوئی مسئلہ ہے تو بتا دیں۔ میں مسئلہ حل کرنے میں ماہر ہوں۔“
”واقعی؟“
”جی ہاں۔ پچھلے ہفتے میں نے اپنے کمرے کی گم شدہ چابی ڈھونڈی تھی۔ دو گھنٹے بعد معلوم ہوا کہ وہ میری جیب میں تھی۔ مسئلہ حل کرنے کا ایسا تجربہ ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا!“
مریم کے ہونٹوں پر اس بار حقیقی مسکراہٹ آ گئی۔ اسحاق نے اطمینان سے سر ہلایا۔
”دیکھا؟ علاج شروع ہوتے ہی مریض بہتر ہونے لگا۔ اب بتائیں، چائے پئیں گی؟“
”نہیں، شکریہ۔ مجھے کام کرنا ہے۔“
”اچھا، لیکن یاد رکھیں، زندگی میں دو چیزیں کبھی ضائع نہیں کرنی چاہییں: اچھے مواقع اور دفتر کی مفت چائے!“
اسحاق آگے بڑھ گیا، لیکن مریم کا ذہن اب بھی ایک ہی سوال میں الجھا ہوا تھا۔ اسے حارث سے جواب لینا ہی تھا۔
حارث کے کمرے میں ایک سوال
کچھ دیر بعد مریم نے خود کو سنبھالا اور حارث کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
”آئیے۔“
حارث میز پر جھکا کچھ کاغذات دیکھ رہا تھا۔ مریم اندر داخل ہوئی تو اس نے فائل بند کر دی۔
”سر، مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔“
”جی، کہیے۔“
مریم نے سیدھا سوال کیا، ”کیا آپ میرے والد کو جانتے ہیں؟“
حارث چند لمحے خاموش رہا۔ ”میں نے آپ کے والد سے کبھی ذاتی طور پر ملاقات نہیں کی۔“
”میں نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ ان سے ملے ہیں یا نہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ انہیں جانتے ہیں؟“
حارث نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ مریم کی آواز میں پہلی بار ایسی مضبوطی تھی جسے نظر انداز کرنا آسان نہیں تھا۔
”مریم، بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں مکمل معلومات کے بغیر رائے قائم کرنا مناسب نہیں ہوتا۔“
”اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سچ جانتے ہوئے بھی خاموش رہتے ہیں۔“
حارث کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے حیرت ابھری۔ شاید اسے توقع نہیں تھی کہ مریم اتنی جلدی اس سے سوال کرے گی۔
”آپ نے میری بات سن لی تھی؟“ اس نے پوچھا۔
”اتنی کہ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپ کچھ چھپا رہے ہیں۔“
حارث کرسی سے اٹھا اور کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ باہر سڑک پر گاڑیاں گزر رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد اس نے کہا، ”میں آپ سے جھوٹ نہیں بولنا چاہتا، مریم۔ لیکن ابھی میرے پاس ایسی معلومات نہیں ہیں جن کی بنیاد پر میں آپ کو کوئی حتمی بات بتا سکوں۔“
”تو کم از کم اتنا بتا دیں کہ شاہ خاندان کون ہے؟“
حارث نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔ ”آپ کو یہ نام کہاں سے معلوم ہوا؟“
”میرے والد کے پاس آنے والے ایک شخص نے خود بتایا تھا۔ وہ ہمیں دھمکی دے کر گیا ہے۔“
حارث کی آنکھوں میں تشویش واضح ہو گئی۔ ”اس شخص کا حلیہ بتا سکتی ہیں؟“
مریم نے اسے اس شخص کی شکل، لباس اور بات کرنے کے انداز کے بارے میں بتایا۔ حارث نے سب کچھ خاموشی سے سنا۔
”اس کا نام فرید شاہ ہے،“ حارث نے آخرکار کہا۔ ”وہ شاہ خاندان کے کاروباری معاملات دیکھتا ہے۔ لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ آپ کے گھر بھی پہنچ چکا ہے۔“
”تو آپ اس خاندان کو جانتے ہیں!“
”جی۔ ہمارے کاروبار کے کچھ معاملات ان سے متعلق رہے ہیں۔“
مریم نے تلخی سے کہا، ”اور آپ کو میرے والد کی فائل بھی معلوم تھی۔ پھر بھی آپ نے مجھے کچھ نہیں بتایا۔“
حارث نے نظریں جھکا لیں۔ ”میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔“
”میری زندگی کے بارے میں فیصلے کرنے کا حق آپ کو کس نے دیا؟ اگر خطرہ میرے گھر تک پہنچ چکا ہے تو مجھے حقیقت جاننے کا حق ہے۔“
حارث کے پاس اس بات کا کوئی آسان جواب نہیں تھا۔ اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ مریم صرف حالات کا مقابلہ کرنے والی لڑکی نہیں، بلکہ سچ کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے۔
”آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں،“ اس نے آہستہ سے کہا۔ ”میں کوشش کروں گا کہ جو کچھ مجھے معلوم ہے، وہ آپ سے نہ چھپاؤں۔ لیکن آپ سے ایک درخواست ہے۔ کسی بھی کاغذ یا شخص پر اعتماد کرنے سے پہلے مجھے بتا دیجیے گا۔ فرید شاہ کے ارادے ٹھیک نہیں لگتے۔“
مریم نے جواب دیا، ”میں کسی پر اندھا اعتماد نہیں کروں گی۔ آپ پر بھی نہیں۔“
یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔ حارث اسے جاتا دیکھتا رہا۔ اس کے دل میں پہلی بار یہ احساس پیدا ہوا کہ مریم کی زندگی میں آنے والا طوفان شاید اس کی اپنی زندگی کو بھی بدلنے والا ہے۔
ایک پرانی تصویر
شام کو گھر واپس پہنچ کر مریم نے سب سے پہلے اپنے والد کے کمرے کا رخ کیا۔ سلیم صاحب چارپائی پر بیٹھے کچھ پرانے کاغذات دیکھ رہے تھے۔ مریم کو دیکھ کر انہوں نے فوراً کاغذات ایک طرف رکھ دیے۔
”ابو، مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے۔“
سلیم صاحب نے تھکے ہوئے انداز میں کہا، ”مریم، میں جانتا ہوں تم کیا پوچھنے آئی ہو۔“
”تو پھر مجھے سچ بتا دیجیے۔ فرید شاہ کون ہے؟ اور آپ اس سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟“
سلیم صاحب نے گہری سانس لی۔ ”میں اس سے نہیں ڈرتا، بیٹی۔ مجھے تم لوگوں کی فکر ہے۔ کچھ لوگ اپنی طاقت اور دولت کے بل پر سمجھتے ہیں کہ وہ دوسروں کی زندگیوں کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔“
”کیا اس نے آپ کے ساتھ ناانصافی کی تھی؟“
سلیم صاحب نے جواب دینے کے بجائے ایک پرانا لکڑی کا صندوق کھولا۔ اس میں کچھ خطوط، تصاویر اور کپڑے میں لپٹی ہوئی ایک چھوٹی سی ڈائری رکھی تھی۔ انہوں نے ڈائری نکالی اور مریم کے سامنے رکھ دی۔
”یہ تمہارے دادا کی ڈائری ہے۔ اس میں اس معاملے کے بارے میں کچھ باتیں لکھی ہوئی ہیں۔ میں نے اسے برسوں سے سنبھال کر رکھا ہے، لیکن کبھی ہمت نہیں ہوئی کہ اسے دوبارہ کھولوں۔“
مریم نے احتیاط سے ڈائری کھولی۔ کئی صفحات پرانے ہونے کی وجہ سے کمزور ہو چکے تھے۔ ابتدائی صفحات پر خاندان کے حالات اور روزمرہ کی باتیں لکھی تھیں۔ پھر ایک جگہ اسے جائیداد کا ذکر ملا۔
ایک صفحے پر درج تھا کہ برسوں پہلے سلیم احمد کے والد اور شاہ خاندان کے ایک بزرگ کے درمیان زمین کے کاروبار کا معاہدہ ہوا تھا۔ ابتدا میں دونوں خاندانوں کے تعلقات اچھے تھے، لیکن بعد میں ملکیت کے کاغذات پر تنازع کھڑا ہو گیا۔
مریم نے اگلا صفحہ پلٹا تو وہاں لکھا تھا کہ اصل معاہدے کی ایک نقل سلیم احمد کے پاس محفوظ ہے، جبکہ دوسری نقل شاہ خاندان کے پاس ہے۔ معاملہ عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی اچانک رک گیا تھا۔ اس کی وجہ ڈائری میں واضح نہیں تھی۔
”ابو، یہ معاہدہ آخر کس زمین کے بارے میں تھا؟“ مریم نے پوچھا۔
سلیم صاحب نے کہا، ”وہ زمین ہمارے خاندان کی تھی۔ میرے والد نے اسے ایک مشترکہ کاروباری منصوبے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ لیکن کچھ عرصے بعد کاغذات میں ایسی تبدیلیاں سامنے آئیں جن پر ہم نے کبھی رضامندی نہیں دی تھی۔“
”پھر آپ نے قانونی کارروائی کیوں نہیں کی؟“
”ہم نے کوشش کی تھی۔ لیکن میرے والد کی وفات کے بعد حالات بدل گئے۔ ہمارے پاس پیسے کم تھے، دوسری طرف بااثر لوگ تھے۔ پھر گھر کی ذمہ داریاں بڑھتی گئیں۔ میں نے سوچا کہ اپنی اولاد کو اس لڑائی سے دور رکھوں گا۔“
مریم کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ ”آپ نے یہ سب اکیلے برداشت کیا؟“
سلیم صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ ”والد اپنے بچوں کے لیے بہت کچھ برداشت کر لیتے ہیں۔ لیکن میں نہیں چاہتا کہ تم اپنی زندگی صرف ہمارے ماضی کو ٹھیک کرنے میں گزار دو۔“
مریم نے ڈائری بند کی۔ ”میں اپنی زندگی بھی بناؤں گی اور اگر ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو اس کا سچ بھی معلوم کروں گی۔“
سلیم صاحب نے بیٹی کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں انہیں اپنی جوانی کی وہی ضد اور حوصلہ دکھائی دیا جو کبھی ان کے اپنے اندر ہوا کرتا تھا۔
اسی دوران مریم کی نظر صندوق میں رکھی ایک پرانی تصویر پر پڑی۔ اس نے تصویر اٹھائی۔ اس میں دو نوجوان ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے تھے۔ ایک اس کے والد تھے، جبکہ دوسرے شخص کا چہرہ فرید شاہ سے ملتا جلتا تھا۔ تصویر کے پیچھے ایک تاریخ اور چند الفاظ لکھے تھے:
”دوستی کا آخری دن۔“
مریم نے حیرت سے اپنے والد کی طرف دیکھا۔ ”ابو، کیا آپ اور فرید شاہ کبھی دوست تھے؟“
سلیم صاحب کی آنکھوں میں ایک پرانی تکلیف جاگ اٹھی۔
”وہ کبھی میرا دوست تھا، بیٹی۔ لیکن کچھ رشتے ایک غلط فیصلے سے ختم نہیں ہوتے، ان کے پیچھے کئی ایسے راز ہوتے ہیں جنہیں جاننے کے بعد انسان اپنے ہی ماضی کو پہچان نہیں پاتا۔“
اسحاق کی انوکھی تفتیش
اگلے دن دفتر میں مریم نے فیصلہ کیا کہ وہ ریکارڈ کی مدد سے معاہدے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرے گی۔ اس نے اسحاق سے بات کی تو وہ فوراً سنجیدہ ہو گیا۔
”تو آپ کے والد کا نام اس فائل میں تھا؟“
”ہاں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ یہ معاملہ فرید شاہ سے متعلق ہے۔“
اسحاق نے کرسی کے قریب آ کر آہستہ سے کہا، ”دیکھیں، میں ایک ذمہ دار ملازم ہوں۔ مجھے دفتر کے قوانین کا پورا احترام ہے۔ لیکن اگر کوئی پرانی فائل کسی کو پریشان کر رہی ہے تو ہم اسے قانونی طریقے سے دیکھ سکتے ہیں۔“
مریم نے حیرت سے پوچھا، ”تم اتنے سنجیدہ بھی ہو سکتے ہو؟“
اسحاق نے برا ماننے کا ڈراما کیا۔ ”معاف کیجیے گا! میں مزاحیہ ضرور ہوں، بے عقل نہیں۔ دونوں میں فرق ہوتا ہے۔“
مریم مسکرا دی۔ ”اچھا، تو اب کیا کریں؟“
”سب سے پہلے ریکارڈ انچارج سے اجازت لیتے ہیں۔ پھر پرانی فائلوں کی فہرست دیکھیں گے۔ اور اگر کہیں کوئی سراغ ملا تو اسے حارث صاحب تک پہنچائیں گے۔“
مریم نے کہا، ”لیکن حارث پر بھی مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔“
اسحاق نے چند لمحے سوچا، پھر بولا، ”یہ بات بھی درست ہے۔ ویسے اگر کسی انسان پر اعتماد کرنے سے پہلے اس کی پوری فائل دیکھنی پڑے تو میری شادی مشکل ہو جائے گی۔ میری ہونے والی بیوی کو تو میری تنخواہ کی فائل ہی کافی لگے گی!“
مریم ہنس پڑی۔ ”تمہاری شادی کی فکر کس کو ہے؟“
”مجھے خود بھی نہیں، لیکن میری امی روزانہ یاد دلاتی ہیں۔ ان کے مطابق میری عمر نکل رہی ہے۔ میں نے کہا، امی، میری عمر نکل رہی ہے یا میرے پیسے؟ کیونکہ دونوں مہینے کے آخر تک ختم ہو جاتے ہیں!“
اسحاق کی باتوں سے مریم کا ذہنی دباؤ کچھ کم ہوا۔ دونوں نے ریکارڈ انچارج سے اجازت لے کر متعلقہ فائلوں کی فہرست دیکھی۔ کافی تلاش کے بعد انہیں ایک پرانے رجسٹر میں معاہدے کا نمبر مل گیا۔ اس کے ساتھ ایک نوٹ درج تھا کہ اصل دستاویزات کا ایک حصہ دفتر کے مرکزی ریکارڈ میں موجود نہیں۔
”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“ مریم نے حیرت سے کہا۔
اسحاق نے رجسٹر کو غور سے دیکھا۔ ”ممکن ہے فائل کسی دوسرے شعبے میں منتقل کی گئی ہو۔ یا پھر کسی نے اسے غلط جگہ رکھ دیا ہو۔“
”تمہیں واقعی لگتا ہے کہ یہ محض غلطی ہے؟“
اسحاق نے اس بار مذاق نہیں کیا۔ ”مجھے نہیں معلوم، مریم۔ لیکن جب تک ثبوت نہ ہو، کسی پر الزام نہیں لگانا چاہیے۔ ہم جو کچھ بھی کریں گے، قانون کے مطابق کریں گے۔“
مریم نے سر ہلایا۔ وہ جانتی تھی کہ اسحاق کی بات درست ہے۔ اسے جذبات میں آ کر کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا تھا جس سے اس کے والد کے لیے مشکلات بڑھ جائیں۔
حارث کا وعدہ
دوپہر کے بعد حارث نے مریم کو اپنے کمرے میں بلایا۔ اس کے سامنے دو پرانی دستاویزات رکھی تھیں۔
”میں نے دفتر کے قانونی شعبے سے بات کی ہے،“ حارث نے کہا۔ ”معاہدے کا کچھ ریکارڈ ابھی موجود ہے، لیکن اصل دستاویزات کا ایک حصہ کئی سال پہلے غائب ہوا تھا۔ اس بارے میں مکمل رپورٹ نہیں مل رہی۔“
مریم نے پوچھا، ”کیا فرید شاہ کا اس سے کوئی تعلق ہے؟“
”میں ابھی یہ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ آپ کے والد کے پاس موجود کاغذات اس معاملے میں اہم ہو سکتے ہیں۔“
”تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟“
”سب سے پہلے آپ اپنے والد کے پاس موجود تمام متعلقہ کاغذات محفوظ رکھیں۔ کسی کو اصل دستاویزات نہ دیں۔ پھر کسی مستند وکیل سے مشورہ کریں تاکہ آپ کے خاندان کے حقوق کے بارے میں قانونی طور پر معلوم کیا جا سکے۔“
مریم نے اس کی طرف دیکھا۔ ”اور آپ؟ آپ ہماری مدد کیوں کر رہے ہیں؟“
حارث کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے کہا، ”کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ آپ کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے۔ اور کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ماضی کی غلطیوں کی قیمت کوئی بے قصور ادا کرے۔“
”کیا آپ کے خاندان کا بھی اس معاملے سے کوئی تعلق ہے؟“
حارث کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے عجیب سی اداسی ابھری۔ ”ہاں، میرے خاندان کا بھی ایک تعلق ہے۔ لیکن اس کی پوری حقیقت مجھے بھی معلوم نہیں۔“
مریم نے محسوس کیا کہ حارث پہلی بار اپنے بارے میں کچھ بتا رہا ہے۔ اس کی آواز میں بناوٹ نہیں تھی۔ پھر بھی مریم نے خود کو یاد دلایا کہ اسے صرف باتوں پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔
حارث نے ایک کاغذ اس کی طرف بڑھایا۔ ”یہ رجسٹر میں درج معاہدے کا نمبر اور تاریخ ہے۔ اسے اپنے پاس محفوظ رکھیں۔ یہ آپ کو آگے معلومات حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔“
مریم نے کاغذ اٹھا لیا۔ ”شکریہ، سر۔“
حارث نے پہلی بار نرم لہجے میں کہا، ”مریم، ہر مسئلے کا حل ایک دن میں نہیں نکلتا۔ لیکن اگر ہم صبر اور سمجھ داری سے کام لیں تو سچ تک پہنچ سکتے ہیں۔“
مریم کمرے سے باہر نکلی تو اس کے دل میں حارث کے لیے موجود غصہ کچھ کم ہو چکا تھا، لیکن سوال ابھی باقی تھے۔ اسے یہ بھی محسوس ہوا کہ حارث جب بات کرتا ہے تو اس کی آنکھوں میں ایک ایسی تکلیف نظر آتی ہے جسے وہ چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔
وہ خط جس نے سب بدل دیا
اسی شام مریم گھر پہنچی تو اس کی امی نے اسے ایک لفافہ دیا۔
”یہ آج دوپہر ایک آدمی دے کر گیا تھا۔ اس نے کہا کہ یہ تمہارے ابو کے لیے ہے، لیکن تمہارے ابو گھر پر نہیں تھے۔“
مریم نے لفافے کو غور سے دیکھا۔ اس پر بھیجنے والے کا نام نہیں لکھا تھا۔ اندر ایک سفید کاغذ تھا جس پر صرف چند سطریں درج تھیں۔
”اگر سچ جاننا ہے تو جمعرات کی شام پرانی حویلی پہنچو۔ اپنے ساتھ سلیم احمد کی ڈائری لے کر آنا۔ کسی کو خبر نہ ہو۔ تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ اصل معاہدہ کس نے چھپایا تھا۔“
مریم کے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے۔ اس نے خط دوبارہ پڑھا۔ اس شخص کو اس کے والد کی ڈائری کے بارے میں کیسے معلوم ہوا؟ اور وہ اسے حویلی میں کیوں بلانا چاہتا تھا؟
اس کی امی نے پریشان ہو کر پوچھا، ”کیا لکھا ہے؟“
مریم نے خط ان کے حوالے کر دیا۔ پڑھتے ہی ان کا چہرہ بدل گیا۔
”تم کہیں نہیں جاؤ گی، مریم۔ یہ کسی کی چال بھی ہو سکتی ہے۔“
”امی، میں اکیلی نہیں جاؤں گی۔ پہلے ابو سے بات کروں گی اور پھر کسی قابلِ اعتماد شخص سے مشورہ لوں گی۔“
اسی وقت سلیم صاحب گھر آ گئے۔ خط دیکھ کر وہ بہت پریشان ہوئے۔ انہوں نے فوراً دروازے کی طرف دیکھا، جیسے انہیں خدشہ ہو کہ کوئی ان کی باتیں سن رہا ہے۔
”یہ خط کس نے دیا؟“ انہوں نے پوچھا۔
”ایک آدمی دے کر گیا تھا، ابو،“ مریم نے جواب دیا۔
سلیم صاحب نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا، ”یہ لوگ اب تمہیں بھی اپنے کھیل میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ تمہیں ان سے دور رہنا ہو گا۔“
مریم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ”ابو، میں آپ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی۔ لیکن میں بغیر سوچے سمجھے کسی کے پیچھے بھی نہیں جاؤں گی۔ ہم کسی وکیل سے مشورہ کریں گے، خط کو محفوظ رکھیں گے اور پہلے معلوم کریں گے کہ یہ کس نے بھیجا ہے۔“
سلیم صاحب نے بیٹی کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرے پر فکر کے ساتھ تھوڑا سا اطمینان بھی تھا۔
”تم بالکل اپنی ماں جیسی ہو،“ انہوں نے کہا۔
امی نے فوراً جواب دیا، ”اور ضد میں بالکل اپنے ابو جیسی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ تمہارے ابو پہلے سوچتے ہیں، پھر ضد کرتے ہیں۔ مریم پہلے ضد کرتی ہے، بعد میں سوچتی ہے!“
مریم نے احتجاج کیا، ”امی! میں اتنی بھی بری نہیں ہوں۔“
حمزہ کمرے سے باہر آتے ہوئے بولا، ”آپی، اگر آپ واقعی سمجھ دار ہیں تو میرا ہوم ورک کر دیں۔ میں کل اسکول میں سچ بتا دوں گا کہ یہ میرا اپنا کام ہے!“
مریم نے تکیہ اٹھا کر اس کی طرف پھینکا۔ حمزہ ہنستا ہوا بھاگ گیا۔ کئی دن بعد گھر میں ہنسی کی آواز گونجی تھی، مگر مریم جانتی تھی کہ ان کی پریشانیاں ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں۔
ایک نئی سازش
دوسری طرف شہر کے ایک بڑے گھر میں فرید شاہ اپنے دفتر میں بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے ایک شخص کھڑا تھا جو کچھ دیر پہلے مریم کے گھر خط دے کر آیا تھا۔
”کیا اس نے خط پڑھ لیا؟“ فرید شاہ نے پوچھا۔
”جی صاحب۔ گھر والوں نے بھی پڑھ لیا ہے۔“
فرید شاہ نے میز پر انگلیاں بجائیں۔ ”اچھا۔ اب دیکھتے ہیں کہ سلیم احمد اپنی بیٹی کو حقیقت سے کتنا دور رکھ سکتا ہے۔“
اس شخص نے ہچکچاتے ہوئے کہا، ”صاحب، اگر لڑکی نے وکیل سے رابطہ کر لیا تو؟“
فرید شاہ کی آنکھیں سکڑ گئیں۔ ”تو اسے کرنے دو۔ کچھ کاغذات ایسے ہیں جن کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہونا چاہیے۔ جب تک وہ ہمارے پاس ہیں، کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔“
”اور حارث صاحب؟“
یہ نام سنتے ہی فرید شاہ کا چہرہ سخت ہو گیا۔
”حارث کو اس معاملے سے دور رکھنا تھا۔ اگر اسے اصل حقیقت معلوم ہو گئی تو وہ سب کچھ ہمارے خلاف کر سکتا ہے۔ اس پر نظر رکھو۔ مجھے ہر بات کی خبر ہونی چاہیے۔“
اس شخص کے جانے کے بعد فرید شاہ نے ایک دراز کھولی۔ اندر ایک پرانی تصویر رکھی تھی۔ تصویر میں سلیم احمد اور ایک دوسرے نوجوان کے ساتھ ایک تیسرا شخص بھی کھڑا تھا۔ اس تیسرے شخص کے چہرے پر گہرا نشان تھا۔
فرید شاہ نے تصویر کو دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا، ”تمہاری خاموشی نے مجھے اتنے سال بچائے رکھا، سلیم۔ اب دیکھتے ہیں کہ تمہاری بیٹی بھی تمہاری طرح خاموش رہتی ہے یا نہیں۔“
اس نے تصویر واپس دراز میں رکھ دی، مگر اس بار دراز مکمل بند نہ ہوئی۔ اس کے اندر ایک اور کاغذ نظر آ رہا تھا، جس پر ایک نام لکھا تھا: حارث شاہ۔
یہ نام اس بات کا اشارہ تھا کہ حارث اور فرید شاہ کا تعلق صرف کاروبار تک محدود نہیں تھا۔ اس راز کی پوری حقیقت ابھی پردے میں تھی، لیکن آنے والے دنوں میں یہ تعلق مریم کی زندگی کا رخ بدل سکتا تھا۔
قسط کا اختتام
رات گئے مریم اپنی میز پر بیٹھی ڈائری کے صفحات دیکھ رہی تھی۔ اسے ایک صفحے کے کونے میں کچھ الفاظ نظر آئے جو پہلے اس کی توجہ سے رہ گئے تھے۔ اس نے روشنی قریب کی اور عبارت پڑھنے کی کوشش کی۔
الفاظ دھندلے تھے، مگر اتنا واضح تھا کہ کسی نے لکھا تھا:
”اصل معاہدہ حویلی میں نہیں، اس شخص کے پاس ہے جس پر سب سے زیادہ بھروسا کیا گیا تھا۔“
مریم نے ڈائری بند کر دی۔ اب اس کے سامنے کئی سوال تھے۔ کیا خط بھیجنے والا اسے سچ تک پہنچانا چاہتا تھا یا کسی جال میں پھنسانا؟ فرید شاہ آخر کس چیز سے خوف زدہ تھا؟ اور حارث شاہ کا اس سارے معاملے میں کیا کردار تھا؟
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ جلد بازی نہیں کرے گی۔ پہلے اپنے والد اور امی سے تمام ممکنہ معلومات لے گی، پھر قانونی مشورہ حاصل کرے گی۔ وہ کسی پراسرار خط کے کہنے پر اکیلی حویلی جانے والی نہیں تھی۔
لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ اگلی صبح اس کے نام ایک اور پیغام آنے والا ہے، ایسا پیغام جس میں اس کے خاندان کے ماضی سے متعلق ایک تصویر ہو گی۔ اور اس تصویر میں موجود شخص وہ ہو گا جسے مریم اپنی زندگی میں کبھی دیکھنے کی توقع نہیں کر سکتی تھی۔
کیا حارث شاہ خاندان کا حصہ ہے؟ اصل معاہدہ کس کے پاس ہے؟ اور اس پرانے راز میں وہ تیسرا شخص کون ہے جس کی تصویر فرید شاہ نے چھپا رکھی ہے؟
جاری ہے۔۔۔ قسط نمبر 4 میں
Part 2 parhny ky liye yahan
part 1 parhny ky liye yahan
اگلی قسط پڑھنے کے لیے SanaStoryWorld وزٹ کریں۔

0 Comments